Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
53 - 975
حدیث نمبر 53
روایت ہے حضرت امیہ ابن محشِی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کھاتا تھا تو اس نے بسم اللہ نہ پڑھی حتی کہ نہ باقی رہا اس کے کھانے سے مگر ایک لقمہ پھر جب اسے اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو اس کے اول و آخر بسم اللہ ۲؎ کہا حضور ہنس پڑے پھر فرمایا کہ شیطان اس کے ساتھ کھاتا رہا پھر جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا سب قے کردیا ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کی کنیت ابو عبید ہے،امیہ تصغیر سے ہے اور محشِی میم کے فتح شین کے کسرہ ی کی شد سے ہے،آپ صحابی ہیں،خزاعی اسدی ہیں،بصرہ میں قیام رہا، آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے۔(مرقات و اشعہ)

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ کھانا شروع کرتے وقت پوری بسم اللہ پڑھے لیکن اگر بیچ میں یاد آوے تو صرف بسم اللہ کہے اور ساتھ ہی اولہ و آخرہ کہہ لے۔یہ اصل میں فی اولہ و آخرہ تھا فی کو پوشیدہ کرکے اول آخر کو فتح دے دیا گیا۔

۳؎  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نظریں حقیقت میں چھپی مخلوق کو بھی ملاحظہ فرماتی ہیں اور حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے کہ کسی تاویل کی ضرورت نہیں جیسے ہمارا معدہ مکھی والا کھانا ہضم نہیں کرسکتا ایسے شیطان کا معدہ بسم اللہ والا کھانا ہضم نہیں کرتا اگرچہ اس کا قے کیا ہوا کھانا ہمارے کام نہیں آتا مگر مردود تو بیمار بھی پڑ جاتا ہے اور بھوکا بھی رہ جاتا ہے اور ہمارے کھانے کی فوت شدہ برکت لوٹ آتی ہے۔غرضیکہ اس میں ہمارا فائدہ ہے اس کے دو نقصان اور ممکن ہے کہ وہ مردود آئندہ ہمارے ساتھ بغیر بسم اللہ والا کھانا بھی ڈر کے سبب نہ کھائے کہ شاید یہ بیچ میں بسم اللہ پڑھ لے اور مجھے قے کرنی پڑے۔غالبًا یہ شخص اکیلا کھا رہا تھا  اگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کھاتا ہوتا تو بسم اللہ نہ بھولتا وہاں تو حاضرین بسم اللہ بلند آواز سے کہتے تھے اور ساتھیوں کو بسم اللہ کہنے کا حکم کرتے تھے۔
Flag Counter