۱؎ اس حدیث نے ممانعت قیام کی تمام حدیثوں کی شرح کردی کہ جو کوئی اپنے لیے قیام تعظیمی کرانا چاہے اس کے لیے نہ کھڑے ہو یا اس طرح کھڑے ہونا ممنوع ہے کہ مخدوم بیٹھا ہوا ہو اور لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوں دست بستہ اور یہ عمل تکبروغرور کے لیے ہو ضرورۃً نہ ہو تب سخت ممنوع ہے۔عالم دین کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا یوں ہی عادل حاکم کے روبرو کھڑا ہونا خصوصًا مقدمہ والوں کا یوں استاذ کے سامنے شاگردوں کا کھڑا ہونا مستحب ہے اگرچہ یہ حضرات بیٹھے ہوئے ہوں اور شاگردوں وغیرہ کھڑے ہوں۔(مرقات)ہاں مخدومین کا تکبرًا انہیں کھڑا کرنا خود بیٹھے رہنا یہ ممنوع ہے یہ ہی یہاں مراد ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎ یعنی اس قسم کی تعظیم کو پسند کرنا یا لوگوں کو ایسی تعظیم کا اپنے لیے حکم دینا جہنمی ہونے کا سبب ہے اور تکبر جہنم کا راستہ ہے۔