روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ کوئی شخص صحابہ کرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ پیارا نہ تھا ۱؎ یہ حضرات جب حضور کو دیکھتے تو کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ حضور کی ناپسندیدگی کو جانتے تھے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
شرح
۱؎ صحابہ کرام کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی جان مال،اولاد،ماں باپ سب سے زیادہ پیارے تھے یہ کمال ایمان کی علامت ہے۔ ۲؎ یہ ہمیشہ کا عمل نہ تھا بلکہ اکثر قیام کرتے تھے کبھی نہ کرتے تھے یا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام حضور کو دور سے تشریف لاتا دیکھ کر پہلے سے ہی کھڑے نہ ہوجاتے اور کھڑے ہوکر حضور کا انتظار نہ کرتے تھے بلکہ جب آپ ہمارے پاس تشریف لے آتے تھے تب ہم کھڑے ہوتے تھے لہذا یہ حدیث اس آنے والی حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قیام کرتے تھے۔