۱؎ یہاں کھڑے ہونے سے مراد کسی کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا ہے تعظیمی قیام ممنوع بھی ہے جائز بھی۔ فاسق دنیا داروں کے لیے کھڑا ہونا ان کی خوشامد میں،یونہی جب مخدوم بیٹھا ہوا اور خدام سامنے دست بستہ کھڑے ہوں،یوں ہی جو اپنی تعظیم کرانا چاہے اس کےلیے کھڑا ہونا یہ سب ممنوع ہے اگر یہ تین چیزیں نہ ہوں تو قیام تعظیمی جائز ہے لہذا قیام کی ممانعت اور جواز کی احادیث درست ہیں ان میں تعارض نہیں۔
حدیث نمبر 532
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب بنی قریظہ حضرت سعد کے حکم پر اترنے لگے ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بلا بھیجا اور وہ حضور سے قریب ہی تھے چنانچہ وہ ایک گدھے پر سوار آئے ۲؎ تو جب مسجد سے قریب ہوئے۳؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار سے فرمایا کہ اٹھ کر جاؤ اپنے سردار کی طرف ۴؎ (مسلم،بخاری)یہ دراز حدیث باب حکم اسراء میں گزرچکی۔
شرح
۱؎ غزوہ خندق جسے احزاب بھی کہتے ہیں اس میں یہود مدینہ یعنی بنی قریظہ اور بنی نضیر کا ہاتھ تھا انہوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے غداری کرکے کفار مکہ سے مدینہ پر چڑھائی کرائی تھی،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس غزوہ سے فارغ ہوکر پچیس دن بنی قریظہ کا محاصرہ رکھا یہ لوگ تنگ آکر بولے کہ ہم سعد ابن معاذ کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ہمارے متعلق جو فیصلہ کریں ہم کو منظور ہے یہ سن کر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت سعد ابن معاذ کو بلوایا تاکہ وہ اپنا فیصلہ دیں یہاں وہ واقعہ مذکور ہے۔ ۲؎ حضرت سعد ابن معاذ اس غزوہ خندق میں زخمی ہوگئے تھے زخم سے خون جاری تھا حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر خون قدرتی طور پر بند ہوگیا تھا۔(اشعہ) ۳؎ یہاں مسجد سے مراد مسجد نبوی شریف نہیں ہے بلکہ وہ جگہ ہے جہاں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اس محاصرہ کے زمانہ میں نماز پڑھتے تھے کیونکہ اس وقت حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بنی قریظہ کے محلہ کے اردگرد مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ ان کا محاصرہ کیے ہوئے تھے وہاں حضرت سعد بلائے گئے تھے۔ (مرقات) ۴؎ اس فر مان عالی میں حضور انور نے تمام انصار کو دو حکم دیئے: ایک حضرت سعد کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا،دوسرے ان کے استقبال کے لیے کچھ آگے جانا ان کو لےکر آنا بزرگوں کی آمد پر یہ دونوں کام یعنی تعظیمی قیام اور استقبال جائز بلکہ سنت صحابہ ہیں بلکہ حضور کی سنت قولی بھی اس لیے الی سیدکم فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم حضرت سعد کی بیماری کی وجہ سے تھا تاکہ لوگ انہیں سواری سے اتار لاویں مگر یہ درست نہیں ورنہ صرف ایک دو آدمیوں کو کہا جاتا اور بجائے سیدکم کے مریضکم ارشاد ہوتا تمام انصار کو قیام کا حکم نہ ہوتا۔جمہور علماء نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا ہے بزرگوں کے لیے قیام تعظیمی مستحب ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عکرمہ ابن ابوجہل اور عدی ابن حاتم کی آمد پر ان کی عزت افزائی کے لیے قیام فرمایا،حضرت فاطمہ زہرا حضور انور کی تشریف آوری پر تعظیم قیام کرتی تھیں،صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے قیام تعظیمی بارہا کیا ہے،دیکھو ۔ (مرقات،اشعہ اور لمعات)ہم باب الاسراء میں اس پر بحث کرچکے ہیں اور ہماری کتاب جاء الحق حصہ اول میں قیام تعظیمی کی مکمل بحث کردی گئی ہے وہاں مطالعہ کرو۔