۱؎ یعنی نماز چاشت جس کا وقت شرو ع چہارم دن سے شروع ہوکر نصف دن یعنی دوپہر پر ختم ہوجاتا ہے اس کے بڑے فضائل ہیں۔
۲؎ کیونکہ ان کے پڑھنے میں مشقت و محنت زیادہ ہے کہ دوپہر کی گرمی اور بھوک کی حالت میں پڑھی جاتی ہے،نیز اس وقت کھانا کھاکر آرام کرنے کو دل چاہتا ہے اس لیے ان کا ثواب زیادہ ہے۔
۳؎ یعنی گناہ صغیرہ جھڑ جاتے ہیں خصوصًا وہ گناہ جو ہاتھوں سے کیے جاویں،گناہ کبیرہ توبہ سے اور حقوق العباد ادا کرنے سے معاف ہوسکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ چوری ڈکیتی کر لی جاوے کسی کا مال مار لیا جاوے بعد میں کسی سے مصافحہ کرلیا جاوے سب معاف ہو۔نعوذ باللہ!