روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ کوئی شخص کسی شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر وہاں بیٹھ جائے ۱؎ لیکن یہ کہہ دے کہ جگہ وسیع کرو اور جگہ دو ۲؎(مسلم، بخاری)
شرح
۱؎ یہ حکم عام ہے کہ کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا ممنوع ہے،ہاں اگر وہ شخص ناجائز طور پر وہاں بیٹھا تھا تو اسے اٹھا دینا جائز ہے جیسے کوئی مسجد میں امام یا مؤذن کی مقررہ جگہ بیٹھ جاوے یا وہ کسی کی جگہ بیٹھ گیا تھا تو یہ لوگ آکر اٹھاسکتے ہیں کہ یہ جگہ خود ان کی اپنی ہے نہ کہ اس بیٹھے ہوئے کی۔ ۲؎ یعنی اگر تھوڑے آدمی بہت سی جگہ گھیرے بیٹھے ہیں تو یہ عام خطاب سے کہے کہ بھائیو ذرا گنجائش کرو ذرا مل کر بیٹھو تاکہ میں بھی جگہ حاصل کرسکوں۔