۱؎ اللہ کے ذکر سے مراد بسم اللہ شریف پڑھنا ہے کہ کھانے کے وقت یہ ہی ذکر اللہ سنت ہے ہر وقت کا ذکر علیٰحدہ ہے۔خوشی کی خبر سننے کے وقت کا ذکر ہے الحمدﷲ،غم کی خبر کا ذکر ہے اناﷲ،بری بات سننے کے وقت کا ذکر ہے لاحول الخ تو کھانے کے وقت کا ذکر ہے بسم اللہ بلکہ وضو کرتے وقت،سوتے وقت،مسجد میں داخل ہوتے وقت بھی بسم اللہ پڑھنا سنت ہے۔اس جگہ بعض علماء نے فرمایا کہ ذکر اللہ سے مراد یہ ذکر ہے حتی کہ اگر کھاتے وقت کلمہ طیبہ بھی پڑھ لے تو بھی یہ فائدہ حاصل ہوجائے گا۔شاید یہ حضرت کھاتے وقت اناللہ یا لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنے کو بھی مفید کہتے ہوں بہرحال قوی یہ ہے کہ یہاں ذکر اللہ سے مراد بسم اللہ شریف ہے۔
۲؎ اصل میں فی اولہ و آخرہ تھا فی کو دور کردیا گیا اور اول آخر کو فتحہ دیا گیا۔اول آخر سے مراد کھانے کی ساری حالات ہیں،اول آخر درمیانی حالت جیسے رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَ لَہُمْ رِزْقُہُمْ فِیۡہَا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا"یہاں صبح شام سے مراد تمام اوقات ہیں یعنی جو شخص کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو درمیان میں جب یاد آجائے تب یہ کہہ لے بلکہ بعض علماء نے فرمایا کہ کھانا کھا چکنے ہاتھ دھونےلینے کلی کرلینے کے بعد یاد آوے تب بھی یہ ہی کہہ دے مگر صحیح یہ ہے کہ دوران کھانے میں یاد آتے وقت ہی کہے تاکہ شیطان کھایا ہوا کھانا قے کردے بعد فراغ یہ فائدہ حاصل نہ ہوگا۔