۱؎ حضرت براء ابن عازب مشہور صحابی ہیں،انصاری حارثی ہیں،آخر میں کوفہ میں قیام رہا، ۲۴ھ میں کئی علاقہ کے فاتح آپ ہیں،جنگ جمل و صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے،کوفہ میں ہی وفات پائی وہاں ہی دفن ہوئے۔اس روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ہجرت کے قریب ہی خود بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئیں تھیں۔
۲؎ کیونکہ اس زمانہ میں زمین مدینہ بڑی وبا والی تھی اس لیے اسے یثرب کہتے ہیں جو مہاجر وہاں پہنچتے تھے انہیں بخار آجاتا تھا اس سلسلہ میں حضرت ام المؤمنین کو بھی بخار آگیا،پھر حضور کے دم قدم سے وہ جگہ ایسی صحت بخش بنادی گئی کہ وہاں کی خاک بجائے خاک وباء کے خاک شفا بن گئی،حضور فرماتے ہیں تربۃ ارضناریقۃ بعضنا یشفی سقیمنا۔
۳؎ معلوم ہوا کہ باپ اپنی جوان بچی کا رخسار چوم سکتا ہے یہ چومنا رحمت کا ہے سنت سے ثابت ہے،حضور انور نے اولاد کے رخسار چومے ہیں۔بنیۃ تصیغر بنت کی بمعنی چھوٹی سی لڑکی اسے اردو میں کہتے ہیں بنیا یہ تصغیر پیار کے لیے ہے۔