| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ہیئت عادت صورت میں ۱؎ ایک روایت میں ہے اور بات و گفتگو میں پورا پور مشابہہ ہو بمقابلہ جناب فاطمہ کے آپ جب حضور کی خدمت میں آتیں تو حضور ان کے لیے کھڑے ہوجاتے ان کا ہاتھ پکڑتے انہیں چومتے انہیں اپنی مجلس میں بٹھاتے ۲؎ اور جب حضور انور ان کے پاس تشریف لاتے تو ان کے لیے کھڑی ہوجاتیں حضور کا ہاتھ پکڑتیں اسے بوسہ دیتیں اور آپ کو اپنی جگہ بیٹھالیتیں۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ سمت کے معنی ہیں ہیئت یعنی رفتار گفتار،کردار اور چال ڈھال،ھدیا بمعنی عادت دلُّ لام کے شد سے بمعنی صورت یعنی حضرت خاتون جنت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی جیتی جاگتی چلتی پھرتی بولتی تصویر تھیں بلکہ تصویر صرف شکل دکھاتی ہے آپ سرکار تو سیرت و خصلت میں بھی حضور کا نمونہ تھی قدرت نے ایک سانچہ میں یہ دو صورتیں ڈھالی تھیں ایک ہمارے مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی دوسری حضور فاطمہ زہرہ کی،ہم نے عرض کیا ہے۔شعر رسول اللہ کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا کیانظارہ جن آنکھوں نے تفسیر نبوت کا نبی کی لاڈلی بانو ولی کی ماں شہیدوں کی یہاں جلوہ نبوت کا ولایت کا شہادت کا ۲؎ حضرت فاطمہ زہرا کے لیے حضور کا کھڑا ہونا تعظیم کا نہ تھا کہ تعظیم اپنے سے بڑے کی ہوتی ہے بلکہ خوشی کا قیام تھا ایسے ہی یہ بوسہ محبت و پیار کا تھا۔ساری اولاد میں حضور کو جناب فاطمہ زہرا بہت پیاری تھیں کہ سب سے چھوٹی تھیں اور آپ کی والدہ جناب خدیجہ آپ کے لڑکپن میں وفات پا گئی تھیں تو آپ حضور کی گود میں حضور کی آغوش میں پلیں رضی اللہ تعالی عنہا۔ ۳؎ حضرت خاتون جنت کا یہ قیام وغیرہ حضور کی تعظیم کے لیے تھا جس میں محبت و جوش کی چاشنی تھی۔معلوم ہوا کہ تعظیم کے لیے قیام سنت فاطمہ زہرا ہے اور خوشی کے لیے قیام سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم۔ معلوم ہوا کہ جوان بیٹی کو چومنا اور جوان بیٹی کا اپنے باپ کو چومنا جائز ہے۔