Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
525 - 975
حدیث نمبر 525
روایت ہے حضرت زارع سے ۱؎ اور وہ عبدالقیس کے وفد میں تھے فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے تو ہم اپنی سواریوں سے جلد ی آنے لگے ۲؎ تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ اور پاؤں چومتے تھے ۳؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ زارع ابن عامر ابن عبدالقیس ہیں،عبدالقیس قبیلہ کے وفد میں آپ بھی حاضر بارگاہ ہوئے تھے ایمان لائے،صحابی بنے ،بصرہ میں قیام رہا۔(مرقات)

۲؎  یعنی جب مدینہ  پہنچے  تو شوق ومحبت میں بے خود ہوگئے اپنی سواریوں سے جلد جلد اتر کر حضور انور کی طرف دوڑنے لگے زیارت کے لیے،آج بھی حجاج جب مدینہ منورہ پہنچتے ہیں تو انہیں سامان رکھنا مشکل پڑ جاتا ہے یہ تڑپ وہ جانے جس کے دل سے لگی ہو۔اسی وفد میں ایک صاحب تھے جن کا نام تھا وشج یہ سردار قافلہ تھے،یہ اپنی سواری سے اترے،غسل کیا،سفید عمدہ لباس پہنا،پھر مسجد شریف میں آکر دو رکعت نفل ادا کی،پھر نہایت ادب و انکسار خشوع وخضوع سے بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضر ہوئے حضور انور ان کے اس ادب سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ تمہاری دو خصلتیں اللہ کو بڑی پیاری ہیں: ایک حلم،دوسرے وقار۔(اشعہ)

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے ہاتھ پاؤں دونوں چومنا جائز بلکہ مستحب ہے خواہ پاؤں پر ہاتھ رکھ کر ہاتھوں کو چومے خواہ پاؤں پر منہ رکھ کر چومے دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں کیونکہ مصافحہ کرکے اپنا ہاتھ چومنا منع ہے،بزرگوں کے ہاتھ اپنے منہ سے چومے ایسے ہی ان کے پاؤں اپنے منہ سے چومے آنکھیں ان کے قدموں سے ملے۔مبارک ہیں وہ ہونٹ اور آنکھیں جو حضور کے قدم شریف سے لگ جاویں۔شعر

 اشارہ  آپ  کا  پاتے   ہم   آتے   اپنی  آنکھوں  سے 	تمہارے  آستانہ   کو  لگاتے  اپنی  آنکھو ں سے

تم آتے خواب میں ہم پتلیاں قدموں سے مل لیتے	ہم  اپنی سوئی قسمت کو جگاتےاپنی آنکھوں سے

پا بوسی کو سجدہ سمجھنا جہالت ہے،سجدہ میں سات اعضاء زمین پر لگنا اور سجدہ کی نیت ہونا ضروری ہے قدم بوسی میں یہ کچھ نہیں ہوتا۔
Flag Counter