| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت اسید ابن حضیر سے جو انصاری آدمی ہیں ۱؎ فرمایا جب کہ وہ قوم سے بات چیت کر رہے تھے ان کی طبیعت میں مذاق تھا ۲؎ جب کہ وہ لوگوں کو ہنسا رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی کوکھ میں چھڑی چبھودی ۳؎ وہ بولے مجھے قصاص دیجئے حضور نے فرمایا قصاص لے لو عرض کیا کہ آپ پر قمیض ہے اور مجھ پر نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی قمیض اٹھا دی۴؎ وہ حضور کو لپٹ گئے اور آپ کی کوکھ شریف چومنے لگے پھر بولے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے یہ چاہا تھا ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،بیعۃ عقبہ اور جنگ بدر میں حاضر ہوئے، ۲۰ھ بیس ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،بقیع میں دفن ہوئے۔(مرقات) ۲؎ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ خود اسید ابن حضیر کا ہے مگر صحیح تو یہ ہے یہ واقعہ ایک اور انصاری کا ہے جن کے مزاج میں خوش طبعی بہت تھی۔مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں یہ عبارت یوں ہے ان رجلا من الانصار بینما یحدث۔(مرقات) ۳؎ یہ چھڑی چبھونا بھی خوش طبعی کے طور پر ہوا۔معلوم ہوا کہ کبھی کبھی جائز خوش طبعی کرنا اور سننا اس میں شرکت کرنا جائز ہے۔(اشعہ) ۴؎ خیال رہے کہ بیٹا باپ سے،شاگرد استاد سے،امتی نبی سے،غلام مولیٰ سے اپنا قصاص نہیں مانگ سکتا نہ ان کے درمیان قصاص ہے،دیکھو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی بے قصور ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ کر انہیں کھینچا مگر قصاص کا حکم نہ ہوا،حضور انور کا یہ عمل تعلیم امت کے لیے ہے کہ قصاص دینے میں شرم نہ کریں۔ ۵؎ سبحان اللہ! انہوں نے یہ قرب حاصل کرنے کے لیے کیسا لطیف بہانہ کیا ورنہ کہاں یہ صحابی اور کہاں حضور انور سے قصاص۔