Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
521 - 975
حدیث نمبر 521
روایت ہے حضرت عکرمہ ابن ابوجہل سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس دن میں آپ کے پاس آیا ۲؎ خوش آمدید مہاجر سوار۔ (ترمذی)
شرح
۱؎ ابوجہل کا نام عمرو ابن ہشام قرشی مخزومی ہے،لوگ اسے ابوالحکم کہتے تھے۔حضور نے اس کا نام ابوجہل رکھا یعنی جہالت والا،یہ اس امت کا فرعون ہے،اس کا فرزند عکرمہ بھی حضور کے سخت تر دشمن تھے،فتح مکہ کے دن یہ یمن بھاگ گئے ان کی بیوی ام حکیم بنت حارث اولًا حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوکر ایمان لائیں،پھر اپنے خاوند کے لیے امن لے کر یمن سے حضور اقدس کی خدمت میں لائیں،جب مکہ آئے تو حضور انور ان کے لیے کھڑے ہوگئے انہیں گلے لگایا اور یہ فرمایا۔خیال رہے کہ انہیں مہاجر کہنا اس معنی میں سے ہے کہ کفر یا دار کفر سے اسلام یا دار اسلام کی طرف انہوں نے ہجرت کی،عکرمہ کا ایمان     ۸ھ؁  ہجری میں ہوا اور آپ جنگ یرموک میں شہید ہوئے یعنی خلافت فاروقی میں۔حضور نے حضرت ام سلمہ سے فرمایا تھا کہ میں نے ابوجہل کی ایک شاخ جنت میں دیکھی ہے جب عکرمہ ایمان لائے تو فرمایا اے ام سلمہ یہ ہے ابوجہل کی جنتی شاخ،آپ کا ایمان نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا ہوا،آپ جب قرآن مجید کھولتے تو کہتے اے میرے رب کے فرمان عالی شان یہ کہہ کر اکثر بے ہوش ہوجاتے تھے۔(مرقات)اشعۃ اللمعات کے حاشیہ میں ہے کہ آپ یمن جانے کے لیے جدہ پہنچ گئے تھے کشتی میں سوار ہوگئے تھے کہ آپ کی بیوی پہنچ گئی اور آپ کو اپنے دوپٹہ سے اشارہ کیا آپ کشتی سے اتر آئے آپ کو حضور کی امان دہی کی خبر دی وہ بولے کہ میں امان کے لائق ہی نہیں ہوں میں بڑا مجرم ہوں،وہ بولیں کہ حضور کی رحمت تمہارے قصوروں سے زیادہ ہے اس پر وہ آئے اور یہ واقعہ پیش آیا۔(حاشیہ اشعہ)

۲؎  حضور انور نے انہیں گلے لگا کر یہ فرمایا یعنی تم اب دارالکفر سے دارالسلام کی طرف آئے عکرمہ یہ کرم کریمانہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔
Flag Counter