| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے ایوب ابن بشیر سے وہ عنزہ کے ایک شخص سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوذر سے کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب تم ان سے ملتے تو تم سے مصافحہ کرتے تھے ۲؎ فرمایا کبھی ایسا نہ ہوا کہ میں آپ سے ملا ہوں اور مجھ سے مصافحہ نہ کیا ۳؎ حضور نے مجھے ایک دن بلایا میں اپنے گھر میں نہ تھا پھر جب میں آیا تو مجھے خبر دی گئی تو میں حضور کے پاس آیا آپ ایک تخت پر تھے مجھے لپٹا لیا تو یہ بہت اچھا بہت اچھا ہوا ۴؎(ابواداؤد)
شرح
۱؎ ایوب ابن بشیر تبع تابعین ہیں اور قبیلہ عنزہ کے وہ صاحب جن کا نام نہ لیا وہ تابعی ہیں خبر نہیں وہ عادل ثقہ ہیں یا نہیں۔ ۲؎ یعنی جب تم حضور انور سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتے تھے تو کیا حضور تم سے مصافحہ کرلیتے تھے یہ بعید ہے کہ حضور انور مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھائیں اور صحابی مصافحہ نہ کریں۔(مرقات) ۳؎ یہاں بھی وہ ہی مطلب ہے کہ جب میں خدمت اقدس میں حاضر ہوتا تھا تو میں مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتا تھا حضور مجھ سے مصافحہ فرمالیتے تھے۔ ۴؎ آج کوئی خاص وقت تھا دریائے کرم جوش میں تھا مجھ سے بجائے مصافحہ کے معانقہ فرمایا ۔معانقہ مصافحہ سے اس لیے بہترہوا کہ مصافحہ میں صرف ہاتھ ملتے ہیں اور معانقہ میں گلا ، سینہ وغیرہ سب ہی مل گئے۔فیضان جو معانقہ میں ہوا وہ مصافحہ کے فیضان سے زیادہ تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ معانقہ صرف سفر سے آنے پر ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے علاوہ حالت میں بھی ہوسکتا ہے۔(اشعہ)