Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
519 - 975
حدیث نمبر 519
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ زید ابن حارثہ مدینہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے گھر میں تھے ۱؎ وہ حضور کے پاس آئے تو دروازہ کھٹکھٹایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کی طرف برہنہ چلے اپنا کپڑا کھینچتے ہوئے۲؎  بخدا میں نے آپ کو برہنہ دیکھا نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۳؎  تو حضور نے انہیں گلے لگالیا انہیں چوما۴؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ کسی سفر سے آئے یا کسی جہاد سے عرصہ تک غائب رہنے کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم سے شرف ملاقات سے مشرف ہوئے اس دن حضور کی باری میرے گھر تھی یہ واقعہ میرے گھر میں درپیش ہوا جسے میں نے اپنی آنکھوں دیکھا۔

۲؎  یعنی حضور انور نے چادر اوڑھنے یا قمیض پہننے کا توقف نہ کیا بلکہ قمیض پہنتے ہوئے چادر اوڑھتے ہوئے ہی ان کی طرف بڑھے،برہنہ کے یہ ہی معنی ہیں یعنی بے چادر یا بغیر قمیض ورنہ حضور انور کا ستر کسی بیوی صاحبہ نے بھی کبھی نہ دیکھا۔(مرقات و اشعہ)

۳؎  معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور دولت خانہ میں بھی بغیر قمیض کبھی کسی کے سامنے نہ ہوئے،اس شرم و حیاء پر قربان یا یہ مطلب ہے کہ میں نے اس طرح بغیر قمیض کسی سے ملتے نہ دیکھا لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔

۴؎  اس میں حضرت زید ابن حارثہ کی انتہائی محبوبیت کا اظہار ہے آپ کو حضور نے اپنا بیٹا بنایا تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی میں کسی سے گلے ملنا سنت ہے لہذا عید کے معانقہ کو حرام نہیں کہا جاسکتا۔
Flag Counter