روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ کوئی کھانا پیش کیاگیا ۱؎ تو میں نے ایسا کھانا نہ دیکھا جو ہمارے اول کھاتے وقت بہت برکت والا ہو اور آخر میں کم برکت والا ہو ۲؎ ہم نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہوگیافرمایا ہم نے کھانے کے وقت اس پر اللہ کے نام کا ذکر کیا تھا۳؎ پھر وہ بیٹھ گیا جس نے کھایا اور اللہ کا نام نہ لیا تو اسکے ساتھ شیطان نے کھایا ۴؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎ یہ واقعہ یا تو اس زمانہ کا ہے جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کے گھر میں رونق افروز تھے یا اسکے بعد اورکسی وقت کا،حضرت ابو ایوب حضور کے پہلے میزبان ہیں۔ ۲؎ یعنی جب ہم نے کھانا شروع کیا تو اس میں بڑی برکت دیکھی اور جب فارغ ہونے لگے تو اس کھانے میں بہت ہی بے برکتی محسوس کی۔برکت اورکثرت کا فرق ہم بارہا بیان کرچکے کثرت کمال نہیں برکت کمال ہے،اللہ تعالیٰ ہر دینی و دنیاوی کاموں چیزوں میں برکت دے۔ ۳؎ یعنی کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھی تھی۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ صرف بسم اللہ پڑھنا کافی ہے۔باقی الرحمن الرحیم کہہ لینا بھی بہتر ہے مگر صحیح یہ ہے کہ پوری بسم اللہ پڑھنی چاہیے اور ہر کھانے پر ہر شخص پڑھے حتی کہ حیض و نفاس والی عورتیں بھی پڑھیں،حرام اور مکروہ کھانے پر نہ پڑھے بھنگ،چرس،حقہ پر بسم اللہ نہ پڑھے،شراب نوشی پر بسم اللہ پڑھنا کفر ہے۔(مرقات وغیرہ)اس کے پورے مسائل کتب فقہ میں مطالعہ کرو۔ ۴؎ یعنی کھانا شروع کرتے وقت ہم میں سے ہرشخص نے بسم اللہ پڑھی تھی دوران کھانے میں ایک شخص کھانے میں ایسا شریک ہوگیا جس نے بسم اللہ نہ پڑھی اور کھانا شروع کردیا تو اس کے ساتھ جو شیطان قرین تھا وہ اس کے ہمراہ ہمارے کھانے سے کھانے لگا اس لیے بے برکتی آخری میں ہوگئی۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کے ساتھ رہنے والا شیطان ہے جسے قرین کہتے ہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے کے وقت ہر شخص کا بسم اللہ پڑھ لینا اس کے ساتھی شیطان کے لیے مفید ہوگا دوسرے کے قرین کے لیے مفید نہیں لہذا ہرشخص کو بسم اللہ پڑھنی چاہیے،اگر پچاس آدمی کی جماعت کھانے بیٹھے تو ہرشخص علیٰحدہ بسم اللہ پڑھے لہذا بسم اللہ پڑھنا سنت عین ہے سنت کفایہ نہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اگر کوئی جماعت کھانے بیٹھے تو بسم اللہ پڑھنا سنت کفایہ ہے کہ اگر ایک شخص نے پڑھ لی تو سب کے لیے کافی ہوگئی اور جوشخص بعد میں کھانے میں شریک ہوا اسے علیحدہ بسم اللہ پڑھنی پڑے گی،وہ حضرات لفظ ثم سے دلیل پکڑتے ہیں مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے جیسا کہ انا ذکرنا جمع فرمانے سے معلوم ہوا ہرشخص نے بسم اللہ پڑھی تھی۔