| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بیمار کی پوری مزاج پرسی یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھے پھر اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے ۱؎ اور تمہاری آپس کی پوری تحیت مصافحہ ہے ۲؎ (احمد،ترمذی)اور ترمذی نے اسے ضعیف کہا۔
شرح
۱؎ یعنی جب کوئی شخص کسی بیمار کی مزاج پرسی کرنے جاوے تو اپنا ہاتھ اس کے سر یا ہاتھ پر رکھے پھر زبان سے یہ کہے اس سے بیمار کو تسلی ہوتی ہے مگر بہت دیر تک ہاتھ نہ رکھے رہے یہ ہاتھ رکھنا اظہار محبت کے لیے ہے۔ ۲؎ بوقت ملاقات صرف سلام کرنا ادنی درجہ ہے اور معانقہ کرنا انتہائی حالت ہے،ہروقت معانقہ تکلیف کا باعث ہے،درمیانی حالت یہ ہے کہ بوقت ملاقات سلام بھی کرے مصافحہ بھی اور درمیانی حالت ہمیشہ اچھی ہوتی ہے۔