Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
517 - 975
حدیث نمبر 517
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے تو کیا اس کے آگے جھکے فرمایا نہیں ۱؎  کہا کیا اس سے لپٹ جاوے اور اسے چومے فرمایا نہیں ۲؎ عرض کیا کہ کیا اس کا ہاتھ پکڑ ے اور اس سے مصافحہ کرے فرمایا ہاں۳؎(ترمذی)
شرح
۱؎  کیونکہ جھکنا رکوع ہے اور غیر خدا کو جیسے سجدہ کرنا حرام ہے ایسے ہی رکوع کرنا بھی حرام ہے۔خیال رہے کہ جھکنا جب ممنوع ہے جب کہ تعظیم کے لیے ہو،اگر جھکنا کسی اور کام کے لیے ہو اور وہ کام تعظیم کے لیے ہو تو جائز جیسے کسی کے جوتے سیدھے کرنے یا اس کا ہاتھ یا پاؤں چومنے کے لیے جھکنا ممنوع نہیں کہ یہ جھکنا اور کاموں کے لیے ہے۔

۲؎  لپٹنے اور چومنے کی ممانعت کی چند وجہیں ہوسکتی ہیں: ہر ایک سے معانقہ کرنا،ہر ایک کے ہاتھ پاؤں چومنا منع ہے،خاص بزرگوں کی دست و پا بوسی اور خاص پیاروں کو گلے لگانا جائز ہے یا دنیاداروں مالداروں سے خوشامد کے لیے لپٹنا،ان کے ہاتھ پاؤں چومنا درست نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں معانقہ اور دست و پا بوسی کا ثبوت ہے،حضور نے بعض صحابہ سے معانقہ کیا ہے اور صحابہ نے حضور کے ہاتھ پاؤں چومے ہیں۔(مرقات،لمعات،اشعہ)

۳؎  یعنی مصافحہ کرنا ہر مسلمان سے سنت ہے بوقت ملاقات مصافحہ کرے بوقتِ وداع نہ کرے کہ وداع کے وقت مصافحہ کرنے سے محبت گھٹتی ہے۔
Flag Counter