۱؎ کیونکہ جھکنا رکوع ہے اور غیر خدا کو جیسے سجدہ کرنا حرام ہے ایسے ہی رکوع کرنا بھی حرام ہے۔خیال رہے کہ جھکنا جب ممنوع ہے جب کہ تعظیم کے لیے ہو،اگر جھکنا کسی اور کام کے لیے ہو اور وہ کام تعظیم کے لیے ہو تو جائز جیسے کسی کے جوتے سیدھے کرنے یا اس کا ہاتھ یا پاؤں چومنے کے لیے جھکنا ممنوع نہیں کہ یہ جھکنا اور کاموں کے لیے ہے۔
۲؎ لپٹنے اور چومنے کی ممانعت کی چند وجہیں ہوسکتی ہیں: ہر ایک سے معانقہ کرنا،ہر ایک کے ہاتھ پاؤں چومنا منع ہے،خاص بزرگوں کی دست و پا بوسی اور خاص پیاروں کو گلے لگانا جائز ہے یا دنیاداروں مالداروں سے خوشامد کے لیے لپٹنا،ان کے ہاتھ پاؤں چومنا درست نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں معانقہ اور دست و پا بوسی کا ثبوت ہے،حضور نے بعض صحابہ سے معانقہ کیا ہے اور صحابہ نے حضور کے ہاتھ پاؤں چومے ہیں۔(مرقات،لمعات،اشعہ)
۳؎ یعنی مصافحہ کرنا ہر مسلمان سے سنت ہے بوقت ملاقات مصافحہ کرے بوقتِ وداع نہ کرے کہ وداع کے وقت مصافحہ کرنے سے محبت گھٹتی ہے۔