روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی دو مسلمان نہیں جو آپس میں ملیں پھر مصافحہ کریں مگر ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں بخش دیئے جاتے ہیں ۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا جب دو مسلمان ملیں تو مصافحہ کریں اللہ تعالیٰ کی حمد کریں اور اس سے معافی چاہیں تو ان کی بخشش کردی جاتی ہے ۲؎
شرح
۱؎ مصافحہ سے گناہ صغیرہ جو ہاتھ سے کیے گئے معاف ہوجاتے ہیں،گناہ کبیرہ اور حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ ابو الشیخ نے بروایت حضرت عمر مرفوعًا حدیث نقل کی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو مسلمان جب مصافحہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں اترتی ہیں نوے رحمتیں مصافحہ کی ابتداءکرنے والے پر اور دس رحمتیں دوسرے پر۔(مرقات) ۲؎ یعنی مصافحہ کرتے وقت دونوں صاحب پہلے تو اللہ کی حمد اس کا شکر کریں کہ اس نے ان کو اسلام کی برکت سے بھائی بھائی بنا دیا پھر ہرشخص دونوں کے لیے دعائے مغفرت کرے کہ کہے یغفر اللہ لنا ولکم،بعض لوگ اس وقت درود شریف پڑھتے ہیں یہ بھی اچھا ہے کہ حضور کی سنت ادا کرتے وقت حضور پر درود شریف پڑھیں جن کے صدقہ میں یہ سنت ملی۔