| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حسن ابن علی کو چوما ۱؎ اور آپ کے پاس اقرع ابن حابس تھے ۲؎ وہ بولے کہ میرے دس بچے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو نہ چوما۳؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں دیکھا پھر فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا وہ رحم نہیں کیا جاتا ۴؎ (مسلم بخاری)ہم جناب ابوہریرہ کی حدیث اثم لکع مناقب اہل بیت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے باب میں ذکر کریں گے ان شاءاللہ اور ام ہانی کی حدیث باب الامان میں ذکر کردی گئی ۵؎
شرح
۱؎ ان کے رخسار چومے یا سر یا دونوں،تیسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔ ۲؎ اقرع ابن حابس فتح مکہ کے سال بعد فتح بنی تمیم کے وفد میں حضور انور کی خدمت میں آئے اپنی قوم میں بہت باعزت تھے۔ ۳؎ یعنی میں نے ساری عمر اپنے کسی بچہ کو نہ چوما آپ بچوں کو کیوں بوسہ دیتے ہیں۔خیال رہے کہ بوسہ پانچ قسم کے ہیں: بوسۂ مؤدت جیسے ماں باپ کے ہاتھ پاؤں چومنا، بوسۂ رحمت جیسے اپنے بچوں کو چومنا، بوسۂ شہوت جیسے اپنی بیوی کو چومنا، بوسۂ تحیۃ جیسے مسلمانوں کا ایک دوسرے کو چومنا، بوسۂ عبادت جیسے سنگ اسود یا قرآن مجید کو چومنا۔(از اشعہ)حضور کا یہ بوسہ بوسۂ رحمت تھا۔ ۴؎ یعنی بچوں کو چومنا بوسۂ رحمت ہے جس کے دل میں رحم نہیں اس پرخدا تعالیٰ بھی رحم نہیں کرتا۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ اپنے ننھے بچوں کو کبھی کبھی چومنا واجب ہے۔(مرقات) ۵؎ یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں اسی جگہ تھیں ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان بابوں میں ذکر کیا۔خیال رہے کہ حدیث من لا یرحم لا یرحم یعنی جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔اسے مسلم،بخاری،احمد،ترمذی، ابن ماجہ، طبرانی نے مختلف راویوں سے نقل کیا۔