۱؎ مصافحہ بنا ہے صفح سے بمعنی کشادگی و چوڑائی اس سے دروازے کے تختوں کو صفائح الباب کہتے ہیں اور تلوار کی چوڑائی کو صفح السیف کہتے ہیں۔مصافحہ کے معنی ہیں ہاتھ کی چوڑائی یعنی ہتھیلی کو دوسرے کی ہتھیلی سے ملانا،معانقہ بنا ہے عنق سے بمعنی گردن اور گلا،معانقہ کے معنی ہیں کسی کو گلے لگانا۔مصافحہ معانقہ کے متعلق چند مسائل یاد رکھو: (۱)مصافحہ دونوں ہاتھوں سے چاہیے صرف ایک ہاتھ سے نہ کرے (۲)مصافحہ کرتے وقت ہاتھوں کوہلانا چاہیے(۳)نماز جمعہ یا نماز فجر کے بعد مصافحہ کرنا اگرچہ سنت نہیں مگر درست ہے بلکہ اس کی اصل سنت سے ثابت ہے(۴)اجنبی جوان عورت سے مرد کو مصافحہ کرنا حرام ہے (۵)اپنی محرم یا بہت بوڑھی عورت سے مصافحہ جائز ہے،حضرت ابوبکر صدیق اپنے زمانہ خلافت میں اپنی دودھ کی ماں سے مصافحہ کرتے تھے،حضرت عبداللہ ابن زبیر مکہ معظمہ میں ایک بوڑھی عورت کی اپنے ہاتھ سے خدمت کرتے تھے(۶)خوبصورت امرد لڑکے سے مصافحہ کرنا جائز نہیں(۷)علماء مشائخ کے ہاتھ پاؤں چومنا جائز ہے،حضرات صحابہ نے حضور کے پاؤں چومے ہیں(۸)جو شخص اپنے کو لوگوں سے چوموائے اور چومنے کے لیے کہے اشارۃً یا صراحۃً اس کے ہاتھ چومنا منع ہے(۹)مصافحہ کرکے اپنے ہاتھ چومنا منع ہے(۱۰)بچوں کو چومنا جائز ہے(۱۱)ننگے بدن معانقہ کرنا حرام ہے،ہاں کپڑے پہنے ہوئے معانقہ کرنا جائز ہے مگر مرد مرد سے معانقہ کریں،عورتیں عورتوں سے،مرد عورت سے اورامرد لڑکوں سے معانقہ نہ کریں(۱۲)اپنی اولاد کا سر چومنا جائز ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم جناب فاطمہ زہرا کو چومتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں ان کے جسم سے جنت کی خوشبو پاتا ہوں،یہ تمام مسائل اشعۃ اللمعات میں ہیں(۱۳)کسی کو سجدہ کرنا،اس کے آگے کی زمین چومنا حرام ہے،یوں ہی سلام میں تاحد رکوع جھکنا حرام ہیں۔