روایت ہے عطا ابن یسار سے ۱؎ کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا بولا کیا میں اپنی ماں سے داخلہ کی اجازت لوں ۲؎ فرمایا ہاں وہ بولا کہ میں گھر میں اس کے ساتھ رہتا ہوں۳؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس سے داخلہ کی اجازت لو تو وہ شخص بولا کہ میں تو اس کا خدمتگار ہوں۴؎ تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اجازت داخلہ لو ۵؎ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اسے ننگا دیکھو وہ بولا نہیں تو فرمایا کہ اس سے داخلہ کی اجازت لو ۶؎ (مالک ارسالًا)
شرح
۱؎ آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ حضرت میمونہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں، جلیل القدر تابعی ہیں۔(اشعہ) ۲؎ یعنی اگر اکیلے گھر میں صرف میری ماں حقیقی یا سوتیلی یا دودھ کی یا اور کوئی محرم ہو جس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے ماں سے مراد باقی تمام ذی رحم محرم نہیں(مرقات)تو میں بغیر اجازت گھر چلا جاؤں یا ان سے بھی داخلہ کی اجازت لوں۔ ۳؎ یعنی اگر میں اپنی ماں سے علیٰحدہ نہ رہتا ہوں بلکہ ایک گھر میں ساتھ ہی رہتا ہوں کہیں باہر گیا پھر آیا تو کیا پھر اجازت لوں۔ ۴؎ اس خدمت گزاری کی وجہ سے بار بار مجھے جانا آنا پڑتا ہے ہر بار اجازت لینے میں حرج ہوگا۔ ۵؎ اس اجازت میں یہ آسانی ہے کہ صرف کھانس دینا،پاؤں کی آہٹ کردینا،کنڈی بجادینا،مٹھار دینا کافی ہوگا باقاعدہ سلام کرکے اجازت لینا ضروری نہ ہوگا۔(مرقات)کسی طرح اپنی آمد کی اطلاع کافی ہوگی ۔ ۶؎ سبحان اللہ! کیسی پیاری وجہ بیان ہوئی کہ چونکہ ماں کا ستر دیکھنا حرام ہے اور بے اجازت داخل ہونے میں اس کا اندیشہ ہے لہذا اطلاع کرکے آنا چاہیے،ہاں اگر گھر میں صرف بیوی ہو تو اطلاع کی ضرورت نہیں کہ بیوی سے حجاب نہیں۔