| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی قوم کے دروازے پر آتے تو منہ کے طرف سے دروازے کے سامنے نہ ہوتے لیکن اس کے داہنے یا بائیں رہتے ۱؎ پھر فرماتے السلام علیکم،السلام علیکم یہ اس لیے تھا کہ اس زمانہ میں گھروں پر پردے نہ تھے ۲؎ (ابوداؤد)اور حضرت انس کی حدیث کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا السلام علیکم دعوت کے باب میں ذکر کردی گئی۳؎
شرح
۱؎ سامنے اس لیے نہ کھڑے ہوتے تاکہ پردہ کے سوراخوں کواڑ کے جھروں سے اندرونی حصہ نظر نہ آوے اور گھر والوں کی بے پردگی نہ ہو۔ ۲؎ یعنی کواڑوں کے پردے نہ تھے صرف ٹاٹ پڑے رہتے تھے اب جب کہ دروازوں پر کواڑ وغیرہ ہیں تب بھی بالکل دروازے کے سامنے نہ کھڑا ہونا کہ کواڑوں کی چھڑی سے یا پردہ ہٹ جانے سے گھر والوں کی بے پردگی نہ ہو۔ ۳؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے دعوت کے باب میں نقل کردی۔