| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا بولا فلاں شخص کی کھجور کی شاخ میرے باغ میں ہے ۱؎ اور اس کی شاخ نے مجھے بہت دکھ دیا ہے ۲؎ تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے کہلا بھیجا کہ میرے ہاتھ اپنی یہ شاخ فروخت کردے ۳؎ وہ بولا نہیں ۴؎ فرمایا تو مجھے ہبہ کردے ۵؎ بولا نہیں فرمایا تو اسے میرے ہاتھ جنت کے درخت کی عوض بیچ دے ۶؎ بولا نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ایسا شخص نہ دیکھا جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو ۷؎ سواء اس کے جو سلام میں بخل کرے ۸؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ اس طرح کہ میرا باغ اس کے باغ سے متصل ہے ایک مشترک دیوار بیچ میں ہے،دیوار کی اس طرف اس کی کھجور کا درخت ہے اس درخت کی ایک شاخ دیوار کی اس جانب میرے باغ میں ہے۔حائط وہ باغ کہلاتا ہے جو دیواروں سے گھرا ہو،عرب کے اکثر باغ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ۲؎ کیونکہ یہ شخص اس شاخ کی وجہ سے دیوار پر چڑھتا ہے اور اگر اس شاخ کے پھل میری طرف گرجاویں تو انہیں لینے کے لیے میرے باغ میں آتا ہے ان حرکتوں سے مجھے اورمیرے بچوں کو تکلیف ہوتی ہے،عرب میں باغ والے کا مکان بھی باغ میں ہوتا ہے جہاں اس کے بال بچے رہتے ہیں،اس پڑوسی کی اس آمدورفت سے اسے یقینًا دکھ پہنچتا تھا۔ ۳؎ یعنی اس شاخ یا اس درخت کو ہمارے ہاتھ کچھ پیسوں کی عوض فروخت کردو تاکہ ہم وہ شاخ یا وہ درخت کٹوادیں تاکہ اس شخص کی تکلیف دور ہو،چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سب مسلمانوں کے ولی ہیں اس لیے فرمایا یعنی ہمارے ہاتھ فروخت کردو۔ ۴؎ اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم ماننا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ نہ ماننے والا یا فاسق ہوگا یا کافر مگر حضور کے مشورے کا ماننا فرض نہیں نہ قبول کرنے کا حق ہے،یہاں فرمانا مشورہ تھا حکم نہ تھا۔دوسرے یہ کہ حاکم بادشاہ بھی کسی کا مال بغیر اس کی مرضی کے فروخت نہیں کرسکتا بیع میں مالک کی رضا ضروری ہے،حضور انور نے اس سے فرمایا فروخت کردے خود فروخت نہ فرمادیا رب فرماتا ہے:"اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ"۔اور ایک سائل کا کمبل و پیالہ نیلام فرمادینا یہ حضور کی ولایت عامہ کی بنا پر تھا جیسے مالک اپنے غلام کا مال یا باپ اپنے چھوٹے بچے کا مال فروخت کرسکتا ہے۔ غرضکہ حضور کے دو عمل دو حیثیت سے ہے۔ابی اللحم کے ہاں حضور کی دعوت تھی ایک شخص کو ساتھ لے گئے تو مالک سے اجازت لی،حضرت طلحہ کے ہاں سارے خندق والوں کو مہمان بنا کر لے گئے،وہاں فتویٰ یہاں اپنی ملکیت کا اظہار صلی اللہ علیہ و سلم۔ ۵؎ بغیر دنیاوی عوض کے دیدے یہ ہبہ درحقیقت اس باغ والے کے لیے ہوتا،ھب لی فرمانا اس وجہ سے ہے جو ابھی عرض کی گئی یا ھب لی کے معنے یہ ہیں کہ میری خاطر اس باغ والے کو ہبہ کردے تو یہ سفارش ہے نہ کہ حکم شرعی۔(مرقات) ۶؎ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مسلمان تھا۔مطلب یہ ہے کہ تو اسے سفارش سے بطور صدقہ دیدے میں تجھے اسکی عوض جنت کا باغ عطا کرتا ہوں۔حضور جنت کے مالک ہیں وہاں کی کوئی چیز کسی کو کسی کی عوض دے سکتے ہیں۔ ۷؎ شاید یہ شخص کوئی بدوی یعنی جنگلی شخص تھا جسے ان چیزوں کی قدر نہ تھی نہ آداب مجلس سے واقف تھا ورنہ جنت کی عوض درخت کی شاخ کا بک جانا اچھا سودا تھا۔ ۸؎ یعنی تجھ سے بڑھ کر بخیل وہ ہے جو مسلمان بھائی کو بلا وجہ سلام نہ کرے مفت کا ثواب کھودے یا وہ ہے جو مجھ پر سلام نہ بھیجے،دوسری توجیہ زیادہ قوی ہے۔(مرقات)اس کی تائید اس حدیث سے ہے کہ بخیل وہ جو میرا ذکر سنے اور مجھ پر سلام نہ بھیجے۔