| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے طفیل بن ابی کعب سے ۱؎ کہ وہ حضرت ابن عمر کے پاس جاتے تھے تو ان کے ساتھ بازار تک جاتے تو عبد اللہ ابن عمر کسی معمولی چیزیں بیچنے والے ۲؎ اور شاندار تجارت کرنے والے اور مسکین پر اور کسی پر نہ گزرتے مگر اسے سلام کرتے ۳؎ طفیل کہتے ہیں کہ ایک دن میں عبداللہ ابن عمر کے پاس گیا تو مجھ سے بازار تک چلنے کو کہا میں نے کہا آپ بازار میں کرتے کیا ہیں نہ تو خرید وفروخت پر کھڑے ہوتے ہیں نہ سامان کی دریافت کرتے ہیں نہ اس کا بھاؤ لگاتے ہیں نہ بازار کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تو ہمارے ساتھ یہاں ہی بیٹھے باتیں کرلیں گے ۴؎ فرماتے ہیں کہ تو مجھ سے عبداللہ بن عمر نے فرمایا اے پیٹ والے،راوی کہتے ہیں کہ طفیل کا پیٹ بڑا تھا ۵؎ ہم سلام کے لئےجاتے ہیں کہ جو ہمیں ملے اسے سلام کریں ۶؎(مالک، بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ یہ طفیل تابعی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ شریف میں پیدا ہوئے مگر آپ کی زیارت نہ کرسکے، آپ کی کنیت ابوالحسن ہے،انصاری ہیں۔ ۲؎ سقاط سین کے فتحہ ق کے شد سے بنا ہے سقط سے،سقط معمولی چیزوں کو کہتے ہیں یعنی گہری بڑی چیزیں۔سقاط وہ شخص جو معمولی چیزیں فروخت کرتا ہو جسے اردو میں کہتے ہیں چھابڑہ فروش اور صاحب بیعت اعلیٰ چیزوں کا بیوپاری کہلاتا ہے۔ ۳؎ یعنی آپ ہر تاجر غیر تاجر،امیروفقیر،واقف ناواقف سب کو سلام کرتے تھے اور کچھ خرید و فروخت نہیں کرتے تھے۔ ۴؎ یعنی یہاں بیٹھ کر دینی باتیں کریں،کتاب و سنت،اللہ رسول کا ذکر کریں بازار جاتے آتے بات کرنے کا موقعہ نہیں ملتا۔ ۵؎ لہذا ابوبطن کے معنی ہوئے پیٹ والے جیسے ابوہریرہ بلیوں والے،ابوبکر اولیت والے،ابوبطن بڑے پیٹ والے۔ ۶؎ یعنی ہمارا بازار جانا بھی عبادت ہے کہ ہم وہاں عملی تبلیغ کے لیے جاتے ہیں،سلام کی اشاعت کرنا لوگوں کو سلام کرنے کی عادت ڈالنا۔معلوم ہوا کہ لوگوں کو سنت کا عادی بنانا بھی بہترین عبادت ہے،علماء اگر لوگوں کے پاس جاکر انہیں تبلیغ کریں تو بہت ہی اچھا ہے،گھر بلاکر تبلیغ کرنا اور لوگوں کے گھر جاکر تبلیغ کرنا دونوں ہی سنت ہیں۔