Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
499 - 975
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 499
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب اللہ نے حضرت آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی انہوں نے کہا الحمدﷲ(باذن الٰہی)پھر ان سے ان کے رب نے کہا اے آدم اللہ تم پر رحمت کرے ۲؎ ان فرشتوں کے پاس جو جماعت بیٹھی ہے جاؤ تو کہو السلام علیکم ۳؎ چنانچہ انہوں نے کہا السلام علیکم وہ بولے علیک السلام ورحمۃ اللہ ۴؎  پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹے ۵؎ تو فرمایا یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں سلام ہے پھر ان سے اللہ نے فرمایا حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ کی مٹھیاں بندتھیں ۶؎ کہ جو لینا چاہو اختیار کرلو ۷؎ عرض کیا میں نے اپنے رب کا داہنا ہاتھ اختیار کیا میرے رب کے دونوں ہاتھ داہنے اور مبارک ہیں ۸؎  پھر رب نے ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور ان کی اولاد تھی ۹؎  عرض کیا یارب یہ کون لوگ ہیں فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے ۱۰؎ تو ہر انسان کی عمر اس کی آنکھوں کے درمیان لکھی تھی ۱۱؎  ان میں ایک صاحب بہت چمکدار تھے یا ان کے بہت چمک داروں سے ۱۲؎ عرض کیا یارب یہ کون ہیں فرمایا یہ تمہارے فرزند داؤد ہیں اور ان کی عمر میں نے چالیس سال لکھی ہے ۱۳؎ عرض کیا یارب ان کی عمر میں زیادتی کردے فرمایا میں نے ان کے لیے یہ ہی لکھی ہے ۱۴؎ عرض کیا یارب میں نے اپنی عمر میں سے ساٹھ سال انہیں دیئے ۱۵؎  فرمایا تم جانو اور یہ کام ۱۶؎ فرماتے ہیں پھر جتنا اللہ نے چاہا حضرت آدم جنت میں رہے پھر وہاں سے اتارے گئے اور حضرت آدم اپنی عمر گنتے تھے ۱۷؎  پھر ان کے پاس ملک الموت آئے تو آدم نے ان سے کہا تم نے جلدی کی میری عمر ایک ہزار سال لکھی گئی عرض کیا ہاں لیکن آپ نے اپنے فرزند داؤد کو ساٹھ سال دے دیئے ہیں۱۸؎ حضرت آدم نے انکار کردیا ۱۹؎  چنانچہ ان کی اولاد انکار کرتی ہے آپ بھول گئے تو اولاد بھولنے لگی۲۰؎  فرماتے ہیں کہ اس دن سے لکھنے گواہ بنانے کا حکم دیا گیا ۲۱؎(ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی انہیں پیدا ہوتے ہی چھینک آنا جو صحت و تندرستی کی علامت ہے اللہ کی رحمت اس کے فضل سے تھا اور چھینک پر الحمدللہ کہنا بھی اللہ کے ارادے اس کی تعلیم اس کی رحمت سے تھا انہیں کسی نے سکھایا نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ آپ علم لدنی سے عالم تھے جیسے ہمارے حضور نے پیدا ہوتے ہی سجدہ کیا اور سجدہ میں حمد الٰہی کی یہ سب رب کی تعلیم سے ہے۔

۲؎  یہ واقعہ فرشتوں کے سجدے کے بعد کا ہے لہذا اس آیت کے خلاف نہیں"فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ"۔یرحمك اللہ اگر دعائیہ کلام ہے تو بندوں کی تعلیم کے لیے ہے کہ اولاد چھینک کے جواب میں یہ کہا کریں جیسے قرآن کریم میں ہے"اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡم"اور اگر یہ فرمان خبر کے لیے ہے یعنی اللہ تعالٰی تم پر رحمت کرے گا تو مقصد ظاہر ہے۔

۳؎  یعنی اے آدم آپ ان فرشتوں کے پاس جاؤ انہیں تحیۃ و ملاقات کا سلام کرو۔معلوم ہواکہ آنے والا سلام کرے بیٹھے ہوؤں کو اگرچہ آنے والا افضل ہو اور بیٹھے ہوئے لوگ مفضول ہوں،دیکھو آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل بلکہ ان کے مسجود ہیں مگر آپ نے ہی سلام کیا۔

۴؎  فرشتوں نے جواب میں ورحمۃ اللہ زیادہ کیا تاکہ آئندہ کے لیے سبق ہو کہ جواب میں کچھ زیادتی کردی جایا کرے۔

۵؎  یعنی اس جگہ لوٹے جہاں پہلے رب تعالٰی سے کلام کیا تھا ورنہ رب تعالٰی کی رحمت و قدرت ہر جگہ ہے۔

۶؎  یہ جملہ متشابہات سے ہے اس کے حقیقی معنی ہماری عقل و فہم سے بالا ہیں،اللہ تعالٰی جسمانی ہاتھ اور مٹھی سے پاک ہے اس کے معنی یا رب تعالٰی جانے یا اس کے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ دونوں ہاتھوں سے مراد صفت جمال و جلال ہیں،ان صفتوں میں مرحومین اور مردودین ایسے چھپے تھے جیسے مٹی کی چیز مٹھی میں چھپی ہوتی ہیں۔واللہ تعالٰی اعلم!

۷؎ یعنی ان دونوں میں سے جس کو چاہو اپنا لو اسکے اندر کے بندوں کو اپنا بنالو۔

۸؎  یہ ساری عبارت متشابہات سے ہے اس کے حقیقی معنی وہ ہیں جو اللہ رسول جانیں۔یہاں اشعۃ اللمعات میں اسی جملہ کے پانچ معنی بیان فرمائے: ان میں سے ایک یہ ہے کہ مخلوق کے داہنے بائیں میں سے بایاں ضعیف و کمزور ہوتا ہے داہنا قوی،رب تعالٰی ضعف و کمزوری سے پاک ہے اس کی صفات رحمت اور صفات قہر دونوں ہیں یعنی دونوں مبارک و قوی ہیں ۔ وہ   وہ عزیزوغالب ہے جسے گمراہ کرتا ہے تو حکمت سے اور جسے ہدایت دیتا ہے تو حکمت سے۔

۹؎  یہاں آدم علیہ السلام عالم شہود میں تھے دست قدرت میں عالم غیب میں بطورِ مثال تھے،خود اپنے کو دیکھ رہے تھے جیسے کوئی شخص آئینہ میں اپنے کو اور اپنے گھر بار آل و اولاد کو دیکھے جو خود گھر میں موجود ہوں،یہ مثال محض سمجھانے کے لیے ہے از آدم تاروز قیامت سارے انسان حضرت آدم کو دکھادیئے گئے اور یہ دکھانا اجمالًا نہ تھا بلکہ تفصیلًا تھا کہ آپ نے ہر ایک کو پہچان بھی لیا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔رب تعالٰی نے پہلے تو آدم علیہ السلام کو تمام عالم کی چیزیں دکھا کر انکے نام بتادیئے اس موقعہ پر صرف اولاد آدم دکھائی۔

۱۰؎  اس ہاتھ میں صالحین یعنی مؤمنین اولیاء و انبیاء ہی تھے،دوسرے دستِ قدرت میں کفار ہوں گے خبر نہیں کہ ہم کس ہاتھ میں تھے رب تعالٰی فضل کرے۔

۱۱؎ اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ انسان کی تقدیر اس کی عمر اس کی پیشانی میں لکھی ہوتی ہے اس لیے اسے پیشانی کہتے ہیں یعنی پیش آنے والی چیز۔دوسرے یہ کہ یہ تحریر اللہ کے مقبول بندے پڑھ لیتے ہیں آدم علیہ السلام نے بغیر کسی مدرسہ میں تعلیم پائے یہ تحریر پڑھ لی۔تیسرے یہ کہ آدم علیہ السلام کو سارے انسانوں کی تقدیریں ان کی عمریں معلوم تھیں یہ ہی علوم خمسہ سے ہیں پھر ہمارے حضور کے علم کا کیا پوچھنا، آدم علیہ السلام کا علم ہمارے حضور کے علم کے سمندر کا قطرہ ہے۔شعر

قدرت کی تحریریں جانے 	امی اور تقدیریں جانے

بخشش کی تدبیریں جانے

وہ   ہے   رحمت     والا

جن کا نام ہے محمد ان سے دوجگ ہیں اجیالا

آن کی آن میں عرش پہ جاوے 	 پلک جھپکتے فرش پہ آوے

دوجگ کا والی کہلاوے

امت               کا        رکھوالا

جن کا نام ہے محمد ان سے دو جگ ہیں اجیالا

۱۲؎ غالبًا حضرت آدم علیہ السلام کی غائر نظر حضرت یوسف علیہ السلام یا حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم پر نہ پڑی ہوگی یا ادھر متوجہ نہ ہوئے ہوں گے ورنہ حضور کا حسن تمام سے زیادہ ہے۔رب کا منشاء یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے زیادہ نہ ہو حضور کو دینے کے لیے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ کسی سے لینے کے لیے،رب تعالٰی کا منشاء یہ تھا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو جناب آدم علیہ السلام کی نگاہ میں حسین ترین دکھایا جاوے تاکہ اگلا  واقعہ پیش آوے۔

۱۳؎  آدم علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ عمر ان کی پیشانی میں پڑھ ہی چکے تھے،رب تعالٰی کا یہ فرمان اس پڑھے ہوئے کی تصدیق و تائید کے لیے ہے۔

۱۴؎ آدم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ ان کی عمر اپنی طرف سے بڑھادے اس لیے یہ جواب دیا گیا کہ ہم تو انہیں وہ عمر دے چکے جو دینا تھی آپ کی دعا سے اس وقت اس میں زیادتی نہ فرمائیں گے۔خیال رہے کہ اللہ تعالٰی نے بعد میں حضرت آدم علیہ السلام کو ان کی عمر پوری دی یعنی ایک ہزار سال اور داؤد علیہ السلام کو بھی یہ ساٹھ سال دیئے جو آدم علیہ السلام دے چکے تھے لہذا اس فرمان عالی کے معنی یہ ہیں کہ اس وقت ان کی عمر میں زیادتی نہ کریں گے۔(مرقات)

۱۵؎ اس سے چند مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اللہ کے مقبول بندوں کی دعا سے تقدیریں بدل جاتی ہیں عمریں بڑھ جاتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر بجائے چالیس سال کے سو سال ہوگئی،قرآن کریم فرماتا ہے:"مَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنۡقَصُ مِنْ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیۡرٌ"بلکہ بعض اعمال سے عمریں بڑھ جاتی ہیں،حضور فرماتے ہیں کہ صدقہ سے عمر بڑھتی ہے۔

۱۶؎  یعنی منظور ہے اگر تم ہی اپنی عمر دے رہے ہو تو تم جانو۔معلوم ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو اپنی عمر معلوم تھی کہ ایک ہزار سال ہے تب ہی تو آپ اس میں سے ساٹھ سال دے رہے ہیں اگر آپ کو خبر ہی نہ ہوتی کہ میری عمر دس سال ہے یا بیس سال تو آپ ساٹھ سال کیسے دیتے۔

۱۷؎  خیال رہے کہ آپ کی یہ عمر جنت سے واپس آنے کے بعد شرو ع ہوئی تھی،اس وقت سے آپ نے گنتی شروع کی تھی ورنہ آپ جنت میں بہت دراز مدت رہے وہ مدت عمر کے حساب میں نہیں لگی۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تب اس کی عمر شروع ہوتی ہے پیٹ میں رہنے کی مدت عمر کے حساب میں نہیں لگتی اس لیے یہاں ثم اھبط ارشاد ہوا۔

۱۸؎  تقدیر کے بیان میں جو حدیث گزری ہے وہاں چالیس سال کا ذکر ہے یہاں ساٹھ کا ذکر۔بات یہ تھی کہ آدم علیہ السلام نے داؤد علیہ السلام کو پہلے چالیس دیئے پھر ساٹھ سال کردیئے یعنی بیس سال اور زیادہ حضرت ملک الموت اولًا تو جب آئے جب کہ جناب آدم کی عمر کے ساٹھ سال باقی تھے آپ نے انکار کیا پھر بیس سال بعد آئے جب چالیس سال باقی تھے تاکہ ان بیس سال میں آپ اور بھی غور کرلیں سوچ لیں لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاءکرام کی موت ان کی رضا سے آتی ہے وہ جب چاہتے ہیں تب انہیں وفات دی جاتی ہے،موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ ابھی موت نہیں چاہتے تو بیل کی کھال پر ہاتھ پھیریں جتنے بال آپ کے ہاتھ لگیں فی بال ایک سال۔

۱۹؎  یعنی آدم علیہ السلام یہ واقعہ ایسا بھولے کہ یاد دلانے پر بھی انہیں یاد نہ آیا عمر لینا تو یاد رہا مگر عمر دینا یاد نہ رہا۔خیال رہے کہ یہاں انکار اپنی یاد آنے کا ہے نہ کہ اصلی واقعہ کا اصل واقعہ تو بذریعہ فرشتہ کے رب تعالٰی بیان فرمارہا ہے اس کا انکار کیسے ہوسکتا ہے۔

۲۰؎  آپ سے بھول تو گندم کھانے میں ہوئی اور انکار عمر دینے کا ہوا اولاد میں ماں باپ کا اثر آتا ہے اس لیے انسانوں میں یہ مرض خصوصیت سے موجود ہیں۔

۲۱؎  معلوم ہوا کہ معاملات کا لکھ لینا ان پر گواہ بنالینا آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہی چلا آرہا ہے۔
Flag Counter