۱؎ بلکہ راستوں میں بیٹھنا کبھی گناہوں کا سبب بن جاتا ہے اس سے اجنبی عورتوں پر نظر پڑ جاتی ہے اور بہت خرابیاں ہوجاتی ہیں،ضرورت کے احکام جداگانہ ہیں۔
۲؎ یعنی اگر تم کو راستوں پر بیٹھنا پڑ جاوے تو یہ چار نیکیاں کرتے رہو: بھولے بھٹکے ناواقف کو راستہ بتاؤ،نگاہیں نیچے رکھو،راہ گیروں کے سلام کے جواب دو،اگر کوئی سواری پر سوار ہونے میں دشواری محسوس کرتا ہو تو اسے سوار کرادوں،یوں ہی اگر کوئی بوجھ اٹھانا چاہتا ہے مگر اسے دشواری ہورہی ہو تو اس کی گٹھڑی اس کے سر پر رکھ دو۔
۳؎ اس حدیث کے اول میں یہ تھا کہ میں نے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا علیك السلام یارسول اللہ تو فرمایا یہ مردوں کا آپس کا سلام ہے تم یوں کہو السلام علیک۔