| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت غالب سے ۱؎ کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے تھے ۲؎ کہ ایک شخص آیا بولا مجھے میرے والد نے میرے دادا سے خبر دی فرمایا مجھے میرے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا۳؎ کہا حضور کے پاس جاؤ تو حضور کو میرا سلام عرض کرو۴؎ فرماتے ہیں میں حضور کے پاس حاضر ہوا میں نے عرض کیا کہ میرے والد آپ کو سلام عرض کرتے ہیں تو فرمایا تم پر اور تمہارے باپ پر سلام ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ غالب ابن ابی غیلان ابن خطاب القطان ہیں،بصرہ کے رہنے والے ہیں،تابعین میں سے ہیں،امام نسائی نے آپ کو ثقہ کہا،امام احمد نے ثقہ کہا،امام یحیی نے صدوق و صالح فرمایا،بڑے عالم متقی ہیں۔ ۲؎ ان کی تشریف آوری کے منتظر تھے یا ان کے ساتھ بیٹھے تھے دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں،دیکھو مرقات یہ ہی مقام۔ ۳؎ یعنی میرے دادا کو ان کے باپ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں سلام کہلا کر بھیجا تھا۔ ۴؎ معلوم ہوا کہ سلام کہلا بھیجنا بھی سنت ہے اب لوگ حجاج کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں سلام کہلواتے ہیں حاجی کو چاہیے کہ مواجہہ شریف میں کھڑے ہوکر یوں عرض کرے الصلوۃ والسلام علیك یارسول اللہ فلاں اور فلاں کی جگہ اس کا نام لے۔ ۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی کسی کا سلام پہنچائے تو پہنچانے والے اور بھیجنے والے دونوں کو جواب سلام میں داخل کرلینا چاہیے بلکہ پہنچانے والے کا ذکر پہلے اور بھیجنے والے کا ذکر بعد میں ہونا چاہیے کہ حضور انور نے پہلے فرمایا وعلیك اور بعد میں فرمایا علی ابیك لہذا جو زائرین مدینہ دوسروں کا سلام حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچاتے ہیں خود بھی جواب میں داخل ہوتے ہیں زہے نصیب۔