Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
49 - 975
حدیث نمبر 49
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دستر خوان جب اٹھایاجاتا ۱؎ تو آپ فرماتے اللہ  کا شکر ہے بہت شکر پاکیزہ ۲؎جس میں برکت دی جائے نہ کفایت کیا ہوا اور نہ وداع کیا ہوا اور نہ اس سے بے پرواہی کی ہوئی اے ہمارے رب۳؎(بخاری)
شرح
۱؎ حق یہ ہے کہ یہاں مائدہ سے مراد کپڑے کا دسترخوان ہے یا کھجور کے پتوں کا نہ کہ لکڑی کا خوان کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لکڑی کے خوان اور میز پر کھانا نہ کھاتے تھے۔

۲؎ یعنی ایسی حمد جو ریا وغیرہ سے پاک ہو،اخلاص سے شامل ہو یہ تینوں کلمے یعنی کثیر،طیب اور مبارك حمدًا کی صفات ہیں اور حمدًا  مفعول ہے نحمدہ فعل پوشیدہ کا۔

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ غیر پیش سے ہے ھو پوشیدہ کی خبر اور یہ کلام دعائیہ ہے،ھو کا مرجع بچا ہوا وہ کھانا ہے جو سامنے سے اٹھایا جارہا ہے یعنی ابھی یہ کام ہم کو کافی نہ ہوچکا ہو،ہم سے وداع نہ ہو گیا ہو،ہم اس سے بے نیاز نہ ہوگئے ہوں،ہم کو پھر بھی عطا ہو۔یہ تینوں لفظ اسم مفعول ہیں مکفی۔مودع اور مستغنی اور ہوسکتا ہے کہ غیر کو فتح ہو اور یہ حمدًا کی صفت یا حال ہو یعنی ہم رب کی ایسی حمدکرتے ہیں جو نہ تو کفایت کی جاچکی ہے اور بس ہوچکی اور نہ آخری حمد ہے اور نہ ہم آئندہ کے لیے اس حمد سے بےنیاز ہوچکے ہم پھر بھی اپنے رب کی حمدکرتے رہیں اس کی نعمتوں کے گن گاتے رہیں اور ہوسکتا ہے کہ مکفی،مودع اور مستغنی تینوں اسم فاعل ہوں اور یہ عبارت نحمدہ کے مفاعل سے حال ہو تب معنی ہوں گے کہ ہم اتنی حمد پر کفایت ہی نہ کریں آئندہ بھی حمد کریں نہ حمد کی وداع کریں نہ آئندہ حمد الٰہی سے مستغنی و بے نیاز ہوجائیں مگر پہلی توجیہ ظاہر بھی ہے قوی بھی اور موقعہ کے مناسب بھی کہ کھانا کھا چکنے پر یہ دعا ہے تو کھانے کے متعلق ہونی چاہیے۔ربنا مرفوع بھی ہوسکتا ہے منصوب بھی مجروربھی۔انت ربنا یاربنا یہ اللہ کا بدل ہے تو مجرور ہے۔ (مرقات وغیرہ)
Flag Counter