۱؎ یعنی دانہ بیچتے اور خریدتے قرض لیتے دیتے وقت ناپ تول کر لیا کرو تاکہ کمی بیشی نہ ہو اور تمہارے ذمے دوسروں کا اور دوسرے کے ذمے تمہارا حق نہ رہے یا جب بال بچوں کے لیے کھانا پکانے لگو تو وزن کرکے پکاؤ تاکہ کم نہ پڑے اور نہ کھانا فالتو بچے،یہ حکم استحبابی ہے۔
۲؎ یہ عمل بہت مجرب ہے کہ جب بازار سے کچھ آوے تو ناپ تول کر کے رکھی جائے ان شاء اللہ بہت ہی برکت ہوگی،ہاں خیرات کرتے وقت یا توکل کے موقعہ پر ناپ تول نہ کرے لہذا جن احادیث میں ہے کہ بعض صحابہ کرام کو حضور انورنے کچھ جو عطا فرمائے جس سے وہ برسوں کھاتے رہے جب اتفاقًا تول لیے تو ختم ہوگئے،وہ حدیث اس کے خلاف نہیں وہاں توکل کی تعلیم تھی،یوں ہی فطرہ تول کر خیرات کرے کہ وہاں اداء واجب وزن سے متعلق ہے۔