Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
487 - 975
حدیث نمبر 487
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے ۱؎  تو اسے سلام کرے پھر اگر ان کے درمیان درخت یا دیوار یا پتھر کی آڑ ہوجائے پھر اس سے ملے تو پھر اسے سلام کرے ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎  بھائی سے مراد اسلامی بھائی ہے خواہ اپنا عزیز ہو یا اجنبی۔بھائی فرماکر اشارۃً فرمایا کہ اجنبی عورت کو سلام نہ کرے۔

۲؎  یعنی ملاقات کا سلام غائب ہونے کے بعد ملنے پر ہوگا غائب ہونا اگرچہ معمولی ہی ہو ذرا سی آڑ درمیان میں آگئی ہے غائب ہونا پالیا گیا اب ملنا ملاقات ہے سلام کرو،بلکہ حکمی غائب ہونے کے بعد بھی سلام سنت ہے اس لیے نماز ختم ہونے پر سلام کیا جاتا ہے اس سلام میں نمازی ایک دوسرے کی نیت کریں کیونکہ نمازی بحالت نماز ایک دوسرے سے حکمًا غائب تھے اب عالم بالا کی سیرکرکے آرہے ہیں لہذا سلام کرتے ہیں۔بعد نمازِ فجر بعض لوگ مصافحہ کرتے ہیں اس کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ مصافحہ بوقت ملاقات ہوتا ہے اور یہ بھی وقت ملاقات ہے۔خیال رہے کہ یہاں وہ حالات مراد ہیں جن میں سلام ممنوع نہ ہو لہذا جو پیشاب پاخانہ یا جماع میں مشغول ہو یا سو رہا ہو،اونگھ رہا ہو یا نماز یا اذان میں مشغول ہو یا غسل خانہ میں ہو ،کھانا کھا رہا ہو لقمہ منہ میں ہو یا تلاوت قرآن کررہا ہو یا دینی درس دے رہا ہو یا سن رہا ہو اسے سلام نہ کرے،اگر کرے گا تو اس کا جواب دینا لازم نہ ہوگا۔(مرقات)یوں ہی جمعہ کے دن خطبہ کے وقت سلام ممنوع ہے۔
Flag Counter