| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ ہم سے نہیں جو ہمارے غیروں سے مشابہت کرے ۱؎ تم نہ تو یہود سے مشابہت کرو نہ نصاریٰ سے،یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ ہے اور عیسائیوں کا سلام ہتھلیوں سے اشارہ ہے ۲؎(ترمذی) اور فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۳؎
شرح
۱؎ جو افعال یا احوال یا چیزیں کفار کی قومی علامتیں ہوں مسلمانوں کے لیے حرام ہیں جیسے ہندوانی دھوتی وغیرہ اور جو ان کی دینی علامتیں ہوں وہ مسلمانوں کے لیے کفر ہیں جیسے ہندوانی قشقہ یا ہندوانی زنار وغیرہ۔ ۲؎ یعنی صرف اشاروں سے سلام کرنا منہ سے کچھ نہ کہنا یہود و نصاریٰ کا سلام ہے،مسلمان یا تو زبان سے سلام کریں السلام علیکم کہیں یا اشارہ کے ساتھ منہ سے بولیں تاکہ اسلامی اور غیر اسلامی سلام میں فرق ہوجاوے، یوں ہی صرف سرجھکا دینا یا سر یا آنکھوں سے اشارہ کردینا سلام کے لیے کافی نہیں اور سلام کے وقت خود جھکنا ممنوع ہے تاحد رکوع ہو تو حرام ہے،رب تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتوں پر عمل کی توفیق بخشے۔ ۳؎ ترمذی نے اس حدیث کو صرف اس لیے ضعیف فرمایا کہ عن جدہ میں ہ ضمیر کے متعلق پتہ نہیں چلتا کہ اس کا مرجع کون ہے عمر ابن شعیب ہیں یا انکے والد،ہم شروع کتاب میں یہ بحث کرچکے ہیں۔حق یہ ہے کہ یہ اسناد قوی ہے امام سیوطی نے جامع صغیر میں یہ حدیث بروایت عبداللہ ابن عمرو نقل فرمائی۔(مرقات)