Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
488 - 975
حدیث نمبر 488
روایت ہے قتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم کسی گھر میں جاؤ تو اس کے باشندوں کو سلام کرو ۱؎  اور جب نکلو تو وہاں کے باشندوں کو سلام سے وداع کرو ۲؎(بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ اپنے گھر میں جاؤ یا دوسرے کے بہرحال سلام کرو،اگر خالی گھر میں جاؤ تو کہو السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین،اس کا ماخذوہ آیت کریمہ ہے "فَاِذَا دَخَلْتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ"۔ (مرقات)اور جب مسجد میں جاؤ تو کہو بسم اللہ و السلام علی رسول اللہ۔روح پاک مصطفی مسجدوں بلکہ مسلمانوں کے گھروں میں جلوہ فرما ہے۔(شرح شفا شریف)

۲؎  یعنی سلام کرکے وہاں سے آؤ یہ سلام وداع کہلاتا ہے اس کا جواب دینا فرض نہیں مستحب ہے۔(مرقات) بعض شارحین نے فرمایا کہ فاودعوا بنا ہے ودیعۃ بمعنی امانت سے یعنی رخصت ہوتے وقت اپنا سلام اہل خانہ کے پاس امانت رکھ آؤ کہ پھر خیر سے واپس آؤ اپنی امانت یعنی خیر و برکت و سلامتی وصول کرو،وداع کے وقت مصافحہ کرنا سنت نہیں۔
Flag Counter