Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
485 - 975
حدیث نمبر 485
روایت ہے حضرت علی ابن ابی طالب سے فرماتے ہیں کہ جماعت کی طرف سے یہ کافی ہے کہ جب وہ گزریں تو ان میں سے ایک سلام کرے اور بیٹھے ہوؤں کی طرف سے یہ کافی ہے کہ ان میں سے ایک جواب دے دے ۱؎  بیہقی نے شعب الایمان میں مرفوعًا روایت کیا ۲؎ اور ابواؤد نے روایت کی اور کہا کہ اسے حسن ابن علی نے مرفوع کیا وہ ابوداؤد کے شیخ ہیں۳؎
شرح
۱؎ یعنی اسلام میں سلام کرنا سنت علی الکفایہ ہے کہ اگر جماعت میں سے ایک بھی سلام کرے تو سب کی سنت ادا ہوجائے گی اور سامنے والوں پر جواب سلام دینا فرض کفایہ ہے کہ اگر اس جماعت میں سے ایک نے بھی جواب دے دیا تو سب کی طرف سے فرض ادا ہوگیا۔خیال رہے کہ فرض علی الکفایہ تو بہت ہیں جیسے نماز جنازہ اور سلام کا جواب،بعض صورتوں میں جہاد،عالم دین بننا وغیرہ مگر سنت علی الکفایہ صرف دو ہیں: ایک تو سلام، دوسرے چھینک کا جواب۔کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا ہمارے ہاں سنت علی العین ہے کہ ہرشخص بسم اللہ پڑھ کر کھائے اور شوافع کے ہاں سنت علی الکفایہ،بہرحال احناف کے نزدیک سنت علی الکفایہ صرف یہ دو چیزیں ہی ہیں۔

۲؎  یعنی یہ حدیث ابوداؤد نے دو اسنادوں سے روایت کی ایک اسناد میں مرفوع ہے یعنی حسن ابن علی کی اسناد میں دوسری اسناد میں حضرت علی کا اپنا قول روایت کیا یعنی حدیث موقوف مگر  بیہقی نے صرف مرفوعًا روایت کی۔

۳؎  یعنی یہ حسن ابن علی ابوداؤد کے مشائخ سے ایک شیخ ہیں یہ حسن ابن علی ابن ابی طالب نہیں دھوکا نہ کھانا چاہیے،اس کی اسناد یہ ہیں عن ابی داؤد عن حسن ابن علی عن عبدالملک ابن ابراہیم عن سعید ابن خالد عن عبداللہ ابن فضل عن عبداللہ ابن ابی رافع عن علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ،بہرحال یہ حدیث موقوف بھی ہے مرفوع بھی لہذا مرفوع ہی مانی جاوے گی،اگر موقوف بھی ہوتی تب بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی کہ ایسی حدیث جو عقل سے وراء ہو وہ موقوف بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے۔
Flag Counter