Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
482 - 975
حدیث نمبر 482
 ابوداؤد نے حضرت معاذ ابن انس سے بھی روایت کی وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں اس کے ہم معنی اور زیادتی کی کہ پھر دوسرا اور آیا اس نے عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ ا للہ وبرکاتہ و مغفرتہ تو فرمایا چالیس اور فرمایا یونہی زیادتیاں ہوتی رہیں گی ۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی یہ ثواب صرف مغفرتہ تک ہی محدود نہیں کہ ان کلمات کے علاوہ اور کوئی کلمہ بڑھاؤ ثواب نہ بڑھے بلکہ جس قدر کلمات بڑھاتے جاؤ گے ثواب بھی فی کلمہ دس کے حساب سے بڑھتا ہی جائے گا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ السلام علیکم بھی جائز ہے سلام کو معرفہ کرکے اور سلام علیکم بھی جائز سلام کو نکرہ کرکے،السلام کے معنی ہیں وہ سلام یعنی اللہ کا سلام یا آدم علیہ السلام کا سلام جو انہوں نے فرشتوں کو کیا تھا وہ تم پر بھی ہو، قرآن مجید میں دو طرح سلام مذکور ہیں رب فرماتاہے:"وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی"یہاں سلام معروف اور فرماتاہے:"سَلٰمٌ عَلَیۡکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ"یہاں سلام نکرہ ہے۔ خیال رہے کہ جواب سلام میں علیکم پہلے ہو سلام بعد میں،اگر جواب میں بھی السلام علیکم کہہ دیا تو فرض ادا ہوگیا سنت رہ گئی۔
Flag Counter