۱؎ یعنی یہ ثواب صرف مغفرتہ تک ہی محدود نہیں کہ ان کلمات کے علاوہ اور کوئی کلمہ بڑھاؤ ثواب نہ بڑھے بلکہ جس قدر کلمات بڑھاتے جاؤ گے ثواب بھی فی کلمہ دس کے حساب سے بڑھتا ہی جائے گا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ السلام علیکم بھی جائز ہے سلام کو معرفہ کرکے اور سلام علیکم بھی جائز سلام کو نکرہ کرکے،السلام کے معنی ہیں وہ سلام یعنی اللہ کا سلام یا آدم علیہ السلام کا سلام جو انہوں نے فرشتوں کو کیا تھا وہ تم پر بھی ہو، قرآن مجید میں دو طرح سلام مذکور ہیں رب فرماتاہے:"وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی"یہاں سلام معروف اور فرماتاہے:"سَلٰمٌ عَلَیۡکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ"یہاں سلام نکرہ ہے۔ خیال رہے کہ جواب سلام میں علیکم پہلے ہو سلام بعد میں،اگر جواب میں بھی السلام علیکم کہہ دیا تو فرض ادا ہوگیا سنت رہ گئی۔