Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
481 - 975
حدیث نمبر 481
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا تو عرض کیا السلام علیکم ۱؎ حضور انور نے اس کا جواب دیا پھر بیٹھ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا دس ۲؎ پھر دوسرا آدمی اس نے عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ اللہ حضور نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس پھر وہ دوسرا آیا عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا تو فرمایا تیس ۳؎ (ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کو بھی سلام کرے تو علیکم جمع سے کہے کہ اس میں ان فرشتوں کو سلام ہوجاتا ہے جو انسان کے ساتھ رہتے ہیں محافظین اور کاتبین اعمال وغیرہم اگرچہ علیک واحد کہنا بھی جائز ہے۔

۲؎  عشر فاعل ہے ثبت لہ پوشیدہ کا یا نائب فاعل ہے کتب فعل مجہول کا یعنی اس کو دس نیکیوں کا ثواب حاصل ہوا یا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی گئیں۔

۳؎  معلوم ہوا کہ سلام کے ہر کلمہ پر دس نیکیاں ملتی ہیں جتنے کلمات زیادہ ہوں اتنی نیکیاں اسی حساب سے زیادہ ہوں گی،جواب دینے والا زیادہ اچھا جواب دے یعنی سلام کے کلمات پر کچھ کلمات بڑھاکر جواب دے۔
Flag Counter