Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
480 - 975
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 480
روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمان کے لیے مسلمان پر چھ اچھی خصلتیں ہیں ۱؎  جب اس سے ملے تو سلام کرے ۲؎  جب وہ دعوت دے تو قبول کرے۳؎ اور جب چھینکے تو اسے جواب دے جب بیمار ہوجاوے تو مزاج پرسی کرے جب مرجاوے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے۴؎  اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۵؎(ترمذی،دارمی)
شرح
۱؎  ستٌّ کے بعد خصال پوشیدہ ہے اور بالمعروف صفت ہے اسی پوشیدہ خصال کی،خصال جمع ہے خصلت کی بمعنی عادت مگر یہاں مراد وہ حقوق ہیں جن کی عادت ڈالی جائے یعنی مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں ان کی ادا کی عادت ڈالنی چاہئے۔

۲؎  اگر راہ میں ملے تو صرف ایک بار سلام کرے مگر جب کسی کے گھر جا کر ملے تو تین بار سلام کرے،پہلا سلام اجازت داخلہ کے لیے،دوسر سلام جب اندر داخل ہو اس سے ملاقات کرے اور تیسرا سلام وداع ہوتے وقت پہلے سلام کو سلام استیذان کہتے ہیں،دوسرے کو تحیۃ،تیسرے کو سلام وداع۔یہاں راہ چلتے وقت کا سلام مراد ہے اس لیے صرف لقیہ فرمایا حضور کے ہر لفظ پاک میں عجیب حکمتیں ہوتی ہیں۔

۳؎  کھانے کے لیے دعوت دے یا اپنے کسی کام کے لیے بلائے بشرطیکہ وہ کھانے کی دعوت یا اس کا یہ کام ناجائز نہ ہو۔

۴؎ اتباع کے معنی ہیں پیچھے چلنا،یہاں یتبع فرما کر اشارۃً فرمایا گیا جنازہ میں شرکت کرنے کے والوں کو جنازہ سے پیچھے رہنا چاہیے اس سے آگے چلنا ممنوع ہے،ابن ماجہ میں روایت حضرت ابن مسعود ہے کہ الجنازۃ متبوعۃ لیس بتابعۃ لیس منا من تقدمھا۔معلوم ہوا کہ جنازہ کے پیچھے چلے یہ ہی احناف کا مذہب ہے،یہاں جنازہ کے ساتھ جانے سے مراد ہے نماز جنازہ پہنچانا،دفن کرنا کامل اتباع یہ ہی ہے۔(مرقات و اشعہ)

۵؎  یعنی زندگی بھر ہر مسلمان سے وہ برتاوا کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو اللہ تعالٰی اگر یہ نعمت نصیب کردے تو مسلمانوں سے لڑائیاں جھگڑے سب ختم ہوجائیں۔شعر

کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو کلام ایسا	کہ جو کوئی تم سے کرتا تمہیں ناگوار ہوتا

دوسرا شاعر کہتا ہے!      

آنچہ برخود نہ پسندی بہ دیگراں مپسند
Flag Counter