Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
47 - 975
حدیث نمبر 47
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا فرمایا کہ وہ ہماری مسجد ۱؎ سے الگ رہے یا اپنے گھر میں بیٹھے ۲؎ اور بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی۳؎ جس میں ساگ پات کی سبزیاں تھیں تو حضور نے اس میں بو محسوس کی تو فرمایا کہ اسے بعض صحابہ کی طرف بڑھا دو اور فرمایا تم کھاؤ ۴؎ میں ان سے کلام کرتا ہوں جن سے تم کلام نہیں کرتے ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ مسجد سے مراد صرف مسجد نبوی شریف نہیں بلکہ تمام مسجدیں ہیں دنیا بھر کی مسجدیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجلی گاہیں۔بعض روایات میں مساجدنا بھی ہے۔وجہ ظاہر ہے کہ مسجدوں میں رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں جنہیں اسکی بو ناپسند ہے بلکہ مسلمانوں کے مجمعوں،درس قرآن کی مجلسوں،علماء دین و اولیاء کاملین کی بارگاہوں میں بدبو دار منہ لےکر نہ جاؤ۔

۲؎ یعنی جب تک منہ میں بدبو رہے گھر میں ہی رہو،مسلمانوں کے جلسوں،مجمعوں میں نہ جاؤ۔حقہ پینے والے۔تمباکو والا پان کھاکر کلی نہ کرنے والوں کو اس سے عبرت پکڑنی چاہیے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جسے گندہ دہنی کی بیماری ہو اسے مسجدوں کی حاضری معاف ہے۔

۳؎ قدر کا ترجمہ ہے ہانڈی،بعض روایتوں میں بدر ہے،بدر چودھویں رات کے چاند کو کہتے ہیں،پھر گول طباق کو بدر کہا جاتا ہے۔خیر خواہ طبق لایا گیا ہو یا ہانڈی اس میں پیازتھی کچی جس کی بو ظاہر ہورہی تھی۔

۴؎ یہ اخلاق کریمانہ ہے کہ لانے والے کا ہدیہ واپس نہیں فرمایا مسئلہ بھی بتادیا ہدیہ قبول بھی فرمالیا اور اس لانے والے کے سامنے ہی حضرات صحابہ کرام کو کھلا بھی دیا تاکہ لانے والے کو رنج نہ ہو۔خیال رہے کہ جیسے بعض انسان بہت نازک ہوتے ہیں جو ادنی بوبھی برداشت نہیں کرتے اور بعض قوی جو کسی بو کی  پرواہ  نہیں کرتے یوں ہی ملائکہ رحمت بہت ہی نازک ہیں کہ بوکو  برداشت نہیں کرتے۔عذاب کے فرشتے یوں ہی انسانوں کے ساتھ رہنے والے فرشتے بہت قوت والے ہیں جوکسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ دیکھو حضرت جبریل اور رحمت والے فرشتے کتے والے گھرمیں نہیں جاتے مگر ملک الموت کتے کی پرواہ نہیں کرتے۔

۵؎ یعنی حضرت جبریل علیہ السلام اور انکے ساتھی فرشتے جن سے ہم ہمکلام ہوتے رہتے ہیں۔معلوم ہوا کہ اپنے مصاحب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
Flag Counter