| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرماتی ہیں کہ یہود کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے حاضری کی اجازت مانگی تو بولے السام علیکم ۱؎ تو میں نے کہا بلکہ تم پر موت و لعنت پڑے ۲؎ تو حضور نے فرمایا اے عائشہ اللہ رحیم ہے ہر کام میں نرمی پسند کرتا ہے۳؎ میں نے کہا کیا آپ نے وہ نہ سنا جو انہوں نے کہا تھا،فرمایا میں نے کہہ دیا اور تم پر ۴؎ اور ایک روایت میں ہے تم ہی پر یعنی واؤ کا ذکر نہیں ۵؎(مسلم،بخاری)اور بخاری کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ یہود نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے تو بولے السام علیک حضور نے فرمایا وعلیکم تو جناب عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا موت ہو تم پر اور تم پر خدا لعنت کرے غضب کرے ۶؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عائشہ ٹھہرو نرمی لازم کرو اور سختی اور فحش سے بچو ۷؎ انہوں نے عرض کیا، کیا آپ نے نہ سنا جو انہوں نے کہا فرمایا کیا تم نے نہ سنا جو میں نے کہا میں نے ان پر ہی لوٹادیا تو میری دعا ان کے بارے میں قبول ہوگی اور ان کی دعا میرے متعلق نہ قبول ہوگی ۸؎ اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا تم فحش گو نہ بنو ۹؎ کیونکہ اللہ تعالٰی فحش کہنے کو پسند نہیں کرتا ۱۰؎
شرح
۱؎ غالبًا یہ یہود مدینہ تھے جو حضور انور سے ملنے آئے تھے۔معلوم ہوا کہ کفار سے ملنا انہیں گھر میں آنے کی اجازت دینا جائز ہے خصوصًا جب ان کو تبلیغ کرنے کے لیے ہوں ان بدنصیبوں نے حضور انور کے تمام اہلِ بیت کو کوسا اس لیے علیکم کہا اس کے جواب میں حضور انور نے فرمادیا وعلیکم،جناب عائشہ سمجھیں کہ حضور نے ان کی بکواس میں غور نہیں فرمایا اس لیے اگلا کلام آپ نے خود کیا ۔ ۲؎ ام المؤمنین کا یہ غضب و غصہ حضور کی والہانہ محبت کی بنا پر تھا کہ تم نے محبوب کو یہ کیوں کہا۔ ۳؎ لہذا تم ان آنے والوں پر نرمی کرو۔خیال رہے کہ جنگ و مناظرہ میں کفار پر سختی محبوب ہے مگر جب وہ ہمارے گھر ہم سے ملنے آویں تب ان پر نرمی کی جاوے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ "وَ اغْلُظْ عَلَیۡہِمْ"مختلف مقامات کے مختلف احکام ہوتے ہیں۔ ۴؎ یعنی ہم نے خود اپنا بدلہ لیتے ہوئے ان سے فرمایا کہ تم پر ہی پڑے یہ بدلہ کافی ہے۔حضور انور نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی وہ بھی مہمان کفار کے ساتھ ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے دشمنوں پر سختی کرنا عبادت ہے حضور مہمان کفار کی خاطر تواضع کرتے تھے لہذا اس حدیث سے یہ دھوکا نہ دیا جائے کہ حضور کے دشمنوں پر نرمی کرنی چاہیے مہمان کا حکم کچھ اور ہے۔ ۵؎ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ وعلیکم میں واؤ جمع کے لیے نہیں بلکہ بمعنی بلی ہے لہذا وعلیکم کے معنی یہ نہیں کہ ہم پر اور تم پر دونوں پر موت واقع ہو بلکہ معنی یہ ہیں ہم پر نہیں بلکہ تم پر موت آئے اور واؤ نہ ہونے کی صورت میں تو معنی بالکل ظاہر ہیں۔ ۶؎ یعنی اس روایت میں لعنت کے ساتھ غضب کی زیادتی ہے کہ ام المؤمنین نے انہیں تین بد دعائیں دیں: موت کی،لعنت کی،اللہ تعالٰی کے غضب کی۔ ۷؎ عنف سے مراد ہے دل کی سختی،فحش سے مراد ہے زبان کی سختی یعنی دل و زبان دونوں نرم رکھو یہ نرمی صرف مہمان کی وجہ سے ہے ورنہ ان ہی ام المؤمنین کے والد ماجد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ میں صلح کی گفتگو کے موقعہ پر ایک کافر سے کہا تھا امسس بذکر اللات،اللات یہ ہے"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ"کا ظہور رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ ۸؎ یعنی اس سودے میں انہیں کو گھٹا رہا۔ ۹؎ یعنی تمہارے منہ سے کبھی فحش بات نہ نکلے،گالی کوسنا،غیبت وغیرہ کہ تمہاری زبان ان باتوں کے لیے نہیں بنی،تم صدیقہ ہو تمہاری زبان سے ہر بات سچی بھلی نکلے۔شعر جو بات کہو منہ سے وہ اچھی ہو بھلی ہو کھٹی نہ ہو کڑوی نہ ہو مصری کی ڈلی ہو ۱۰؎ یعنی ان دونوں سے رب تعالٰی ناراض ہے۔خیال رہے کہ فحش سے مراد بری بات کا عادی ہونا،تفحش سے مراد ہے بہ تکلف بری بات کہنا کہ اس کی عادت تو نہ ہو مگر دل پر جبر کرکے بری بات منہ سے نکالی جائے۔