Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
472 - 975
حدیث نمبر 472
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہودیوں عیسائیوں پر سلام کی ابتداء نہ کرو ۱؎  اور جب تم ان میں سے کسی راستہ میں ملو تو تنگ راستہ کی طرف انہیں مجبور کرو ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ سارے کفار کا یہی حکم ہے ذمی ہوں یا حربی کہ ان کو مسلمان بلاضرورت سلام نہ کرے کہ سلام میں اظہار احترام ہے اور کفار کا احترام درست نہیں،مرتدین بدمذہبوں کا حکم بھی یہی ہے ضرورت کے احکام جداگانہ ہیں۔ (اشعۃ اللمعات)

۲؎  یعنی مسلمان راستہ میں اس طرح ہجوم کر کے چلیں کہ ذمی کفار کنارہ پر چلنے پر مجبور ہوجائیں اسلام کی شان ظاہر کرنے کے لیے بشرطیکہ کنارہ راہ پر غار یا خارنہ ہوں،انہیں غار یا خار میں پھنسا دینا ان کو ایذا دینا ہے اور ذمی کافر کو ایذا دینا ممنوع ہے۔(مرقات)مستامن کفار اگر ہمارے مہمان بن جائیں یا ان کو بلایا جاوے تو ان کا مہمان کفار کی خاطر ہے۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں کفاربھی مسلمانوں سے ایسا بلکہ اس سے بدتر سلوک کرتے تھے۔
Flag Counter