۱؎ سارے کفار کا یہی حکم ہے ذمی ہوں یا حربی کہ ان کو مسلمان بلاضرورت سلام نہ کرے کہ سلام میں اظہار احترام ہے اور کفار کا احترام درست نہیں،مرتدین بدمذہبوں کا حکم بھی یہی ہے ضرورت کے احکام جداگانہ ہیں۔ (اشعۃ اللمعات)
۲؎ یعنی مسلمان راستہ میں اس طرح ہجوم کر کے چلیں کہ ذمی کفار کنارہ پر چلنے پر مجبور ہوجائیں اسلام کی شان ظاہر کرنے کے لیے بشرطیکہ کنارہ راہ پر غار یا خارنہ ہوں،انہیں غار یا خار میں پھنسا دینا ان کو ایذا دینا ہے اور ذمی کافر کو ایذا دینا ممنوع ہے۔(مرقات)مستامن کفار اگر ہمارے مہمان بن جائیں یا ان کو بلایا جاوے تو ان کا مہمان کفار کی خاطر ہے۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں کفاربھی مسلمانوں سے ایسا بلکہ اس سے بدتر سلوک کرتے تھے۔