| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کھانا لایا جاتا تو آپ اس کھانے سے بچا ہوا مجھے بھیج دیتے تھے ۱؎ آپ نے ایک دن ایک پیالہ بھیجا جس میں سے کچھ نہ کھایا تھا کیونکہ اس میں لہسن تھا۲؎ میں نے حضور سے پوچھا کہ کیا وہ حرام ہے ۳؎ فرمایا نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں اس کی بُو کی وجہ سے۴؎عرض کیا جسے آپ ناپسندکرتے ہیں اسے میں بھی ناپسند کرتا ہوں ۵؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے۔ہر مدینہ والے کی تمنا تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر قیام فرمائیں میرے مہمان بنیں مگر یہ سعادت حضر ت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے نصیب میں تھی،حضور انور آپ کے گھر مہمان رہے،پہلے گھر کے اوپر حصے میں قیام فرمارہے،پھر نیچے حصہ میں جلوہ افروز رہے،اوپر حضرت ابو ایوب کو رکھا۔اہلِ مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خدام بارگاہ کے لیے کھانا لاتے تھے،اہلِ مدینہ میں سب سے زیادہ غریب حضرت ابو ایوب ہی ہیں یہ ہی حضور کے پہلے میزبان ہیں۔سورج طلوع ہوکر پہلے اونچے مقامات کو لجھاتا ہے مگر مدینہ منورہ کا سورج پہلے چھوٹوں کو نیچوں کولجھاتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔(ازمرقات)حضرت ابو ایوب جب اوپر رہتے تھے تو اس جگہ قدم نہ رکھتے تھے جو جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے مقابل تھی۔ ۲؎ کچا لہسن ہوگا جس کی بو نہ ماری گئی ہوگی۔ ۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں سے کچھ نہ کھانا اس وجہ سے ہے کہ وہ حرام ہے اگر حرام ہے تو حضور انور نے میرے لیے کیوں بھیجا۔سبحان اللہ! کیا پیارا سوال ہے۔یا وہ کھانا ہے یا لہسن جو اس کھانے میں تھا۔ ۴؎ یعنی کچالہسن کھانے سے منہ میں بو آتی رہتی ہے اورہمارے پاس فرشتے خصوصًا حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوتے رہتے ہیں جن سے ہم کلامی رہتی ہے۔ان فرشتوں کو منہ کی بو ناپسند ہے اس لیے ہم یہ چیزیں نہیں کھاتے تم کو یہ ملاقات ملائکہ کا شرف حاصل کہاں ہے تم کھاؤ۔ ۵؎ یہ ہے درجہ فنا فی الرسول یعنی اگرچہ میرے اندر وہ وجہ نہیں جس وجہ سے آپ لہسن نہیں ملاحظہ فرماتے یعنی فرشتوں سے ہم کلامی مگر میرے لیے تو آپ کا پسند فرمانا وجہ پسندیدگی ہے۔مطلب یہ ہے کہ مجھے بھی اس سے طبعًا نفرت ہوگئی اب میری طبیعت لہسن سے نفرت کرنے لگی اس لیے کرھت فرمایا لا اکل نہ کہا، ان کی طبیعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوگئی۔