Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
463 - 975
کتاب الاداب،باب السلام

اچھی باتوں کا بیان ۱؎ سلام کا باب ۲؎
۱؎  آداب جمع ہے ادب کی،لغت میں ادب اس کھانے کو کہتے ہیں جس کے لیے لوگوں کوجمع کیا جاوے اس لیے دسترخوان کو ادبہ کہتے ہیں جس پر لوگ جمع ہوکر کھاتے ہیں۔اصطلاح میں ادب وہ محنت اور مشقت ہے جو اچھے کام کرنے کے لیے برداشت کی جاوے۔اسی سے ہے تادیب،بزرگوں کے احترام کو بھی ادب کہتے ہیں بمعنی تعظیم،یہاں ادب سے مراد اچھے کام اور اچھی باتیں۔(اشعۃ اللمعات)یہاں مرقات نے فرمایا کہ بڑوں کی تعظیم چھوٹوں پر شفقت ادب ہے۔سلام کے لغوی معنی ہیں آفات یا عیوب سے سلامتی،اسی سے ہے تسلیم۔ اللہ تعالٰی کا نام ہے سلام بمعنی تمام عیوب سے پاک،اپنے بندوں کو سلامتی و امن دینے والا،اسی سے ہے مسلم بمعنی صلح و صفائی،یہاں سلام سے مراد سلام کا جواب ہے جو آتے جاتے وقت کہا جاتا ہے یعنی السلام علیکم کہنا اور اس کا جواب دینا۔

لطیفہ: علما ء فرماتے ہیں کہ السلام علیکم کے معنی ہیں کہ تم پر سلامتی و امان نازل ہو۔علیکم سے پہلے نازلۃ پوشیدہ ہے اور یہ دعائیہ جملہ ہے،مگر صوفیاء فرماتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں سلام یعنی اللہ تعالٰی تمہارے اعمال،احوال،افعال،اقوال کا نگران ہے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے،ان کے ہاں سلام نام ہے اللہ تعالٰی کا اور علیکم سے پہلے رقیب پوشیدہ ہے بمعنی نگران۔(اشعۃ اللمعات)وہ جو حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور انور نے تیمم فرماکر سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ سلام اللہ کا نام ہے اس لیے بغیر وضو یہ نام نہ لیا وہ حضرات صوفیاء کے معنی کی تائید کرتا ہے۔

دوسرا لطیفہ: مسلمان کو سلام کرنا سنت اور سلام کا جواب دینا فرض ہے مگر ثواب زیادہ ہے سلام کرنے کا یعنی اس سنت کا ثواب اس فرض سے زیادہ ہے جیسے وقت پر قرض ادا کرنا فرض ہے اور وقت سے پہلے ادا کرنا سنت مگر ثواب اس کا زیادہ ہے کہ وعدے سے پہلے اد اکرے یا جیسے محتاج مقروض کو ڈھیل دینا مہلت دینا فرض ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ"معاف کردینا سنت ہے مگر معاف کردینے کا ثواب زیادہ ہے بہرحال بعض سنتوں کا ثواب بعض فرضوں سے زیادہ ہے۔
حدیث نمبر 463
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وآلہ و سلم نے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۱؎ جن کے قدکی لمبائی ساٹھ گز تھی ۲؎  تو جب انہیں پیدا کیا تو فرمایا جاؤ ان لوگوں پٖر سلام کرو وہ فرشتوں کی ایک جماعت تھی بیٹھی ہوئی۳؎  تو غور سے سنو وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں پھر وہ ہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا تحیہ ہے ۴؎  چنانچہ آپ گئے تو کہا السلام علیکم ۵؎  ان سب نے کہا السلام علیک ورحمۃ اللہ فرمایا تو انہوں نے ورحمۃ اللہ بڑھا دیا۶؎  تو جو بھی جنت میں جاوے گا حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا ۷؎  اور اس کا قد ساٹھ۶۰ گز ہوگا پھر جناب آدم علیہ السلام کے بعد مخلوق گھٹتی رہی حتی کہ اب تک ۸؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس جملہ کی چار شرحیں ہیں۔صورت بمعنی ہیئت و شکل ہے یا بمعنی صفت اور ضمیر کا مرجع یا آدم علیہ السلام ہیں یا اللہ تعالٰی لہذا اس جملہ کے چار معنی ہیں۔اللہ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو انکی شکل و ہیئت پر پیدا فرمایا کہ جس شکل میں انہیں رہنا تھا انہیں اول ہی سے وہ شکل دی دوسروں کی طرح نہ کیا کہ پہلے بچہ پھر جوان پھر بڈھا وغیرہ یا اللہ نے حضرت آدم کو ان کی صفت پر پیدا کیا کہ وہ اول ہی سے عالم عارف،سمیع و بصیر وغیرہ تھے دوسروں کی طرح نہیں کہ وہ جاہل پیدا ہوتے ہیں پھر بعد میں ہوش عقل وغیرہ حاصل کرتے ہیں یا اللہ نے حضرت آدم کو اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا،خود فرماتاہے:"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسٰنَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ"اس لیے کوئی شخص دوزخ میں شکل انسانی سے نہ جاوے گا کہ یہ شکل خدا کو پیاری ہے یا اللہ نے حضرت آدم کو اپنی صفات پر پیدا فرمایا کہ انہیں اپنا علم،اپنا تصرف،اپنی سمع،اپنی قدرت وغیرہ بخشی۔ (از اشعہ،مرقات)

۲؎  گز سے مراد شرعی گز ہے یعنی ایک ہاتھ(ڈیڑھ فٹ)یعنی آپ ساٹھ ہاتھ کے ہی پیدا ہوئے دوسرے انسانوں کی طرح نہیں کہ پہلے بہت چھوٹے پیدا ہوتے ہیں پھر بڑھتے رہتے ہیں کیونکہ آپ کی پیدائش ماں باپ سے نہیں تھی لہذا چھوٹا پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

۳؎  جلوس یا تو مصدر ہے تو اس سے پہلے ذو پوشیدہ ہے یا جمع ہے جالس کی جیسے قاعدہ کی جمع ہے قعود اور راکع و ساجد کی جمع ہے رکوع و سجود یعنی وہ جماعت ملائکہ جو بیٹھی ہوئی ہے انہیں سلام کرو،اعلیٰ سے ادنی کو سلام کرایا،مسجود سے ساجدین کو تحیۃ کرائی غالبًا یہ واقعہ سجدہ آدم کے بعد کا ہے۔

۴؎  اس ارشاد فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سلام جواب کا علم نہ تھا بلکہ اسے سنت ملائکہ قرار دینے کے لیے کہا تاکہ اولاد آدم کو یہ معلوم ہوجائے کہ سلام کرنا سنت آدم علیہ السلام ہے اور اعلیٰ جواب دینا سنت ملائکہ،رب تعالٰی انہیں تمام چیزوں کا علم پہلے ہی دے چکا تھا۔

۵؎  معلوم ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سلام کے الفاظ سے سلام کرنے کا طریقہ پہلے ہی سے معلوم تھا اس لیے رب تعالٰی نے آپ کو سلام کے الفاظ نہ بتائے سب کچھ پہلے ہی بتادیا سمجھا دیا گیا ہے۔

۶؎  اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جواب سلام میں السلام علیکم کہنا بھی جائز اگرچہ وعلیکم السلام کہنا افضل ہے۔دوسرے یہ کہ جواب میں کچھ زیادہ الفاظ کہنا بہتر ہے جیساکہ آئندہ آوے گا۔

۷؎  یعنی جنت میں صرف انسان ہی جائیں گے جانور یا جنات نہ جائیں گے اور تمام جنتی انسان آدم علیہ السلام کی طرح حسین و جمیل تندرست ہوں گے کوئی بدشکل یا بیمار نہ ہوگا اور سب کا قد ساٹھ ہاتھ ہوگا کوئی اس سے کم یا زیادہ نہ ہوگا،دنیا میں خواہ پست قد تھا یا دراز قد،بچہ تھا یا بوڑھا،دوزخی کفار بہت موٹے ہوں گے ان کی  ایک ڈاڑھ پہاڑ کی برابر ہوں گی۔(اشعہ)

۸؎  یعنی ان کی اولاد برابر قدوقامت میں گھٹتی رہی حتی کہ اب ساڑھے تین فٹ کے لگ بھگ رہ گئی مگر یہ کمی صرف دنیا میں ہے آخرت میں جنت میں پوری کردی جاوے گی۔
Flag Counter