Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
45 - 975
حدیث نمبر 45
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ کیا تم جس قدر چاہو کھانے پینے میں مشغول نہیں ۱؎ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ردی خرمے بھی اس قدر نہ پاتے تھے کہ اپنا پیٹ بھرلیں ۲؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یہ خطاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام و تابعین سے ہے جب کہ مسلمانوں کو اللہ تعالٰی نے بڑی فراخی عطا فرمادی تھی خصوصًا عہد فاروقی عثمانی میں۔مقصد یہ ہے کہ اس فراخی رزق پر اللہ تعالٰی  کا شکر کرو یا اعتراضًا فرمایا کہ تم لوگوں نے دنیا کی فراوانی پاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زہد تقویٰ اور ترک دنیا کا طریقہ چھوڑ دیا۔(مرقات)

۲؎ دفل کا لفظی ترجمہ گڈ ہے یعنی ایسے معمولی خرمے جس میں ہرقسم کے خرمے موجود ہیں انکا کوئی خاص نام نہ ہو بکھرے پھرتے ہوں یعنی اعلیٰ کھانوں اعلیٰ کھجوروں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ردی معمولی گڈ خرمے بھی افراط سے نہ پاتے تھے،غالبًا یہ ذکر ہے فتح خیبر سے پہلے کا۔
Flag Counter