۱؎ یہ خطاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام و تابعین سے ہے جب کہ مسلمانوں کو اللہ تعالٰی نے بڑی فراخی عطا فرمادی تھی خصوصًا عہد فاروقی عثمانی میں۔مقصد یہ ہے کہ اس فراخی رزق پر اللہ تعالٰی کا شکر کرو یا اعتراضًا فرمایا کہ تم لوگوں نے دنیا کی فراوانی پاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زہد تقویٰ اور ترک دنیا کا طریقہ چھوڑ دیا۔(مرقات)
۲؎ دفل کا لفظی ترجمہ گڈ ہے یعنی ایسے معمولی خرمے جس میں ہرقسم کے خرمے موجود ہیں انکا کوئی خاص نام نہ ہو بکھرے پھرتے ہوں یعنی اعلیٰ کھانوں اعلیٰ کھجوروں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ردی معمولی گڈ خرمے بھی افراط سے نہ پاتے تھے،غالبًا یہ ذکر ہے فتح خیبر سے پہلے کا۔