Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
455 - 975
حدیث نمبر 455
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب ہم سورہے تھے تو ہمارے پاس زمین کے خزانے لائے گئے ۱؎ تو پھر ہمارے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے وہ ہم پر بھاری پڑے۲؎ تو ہم کو وحی کی گئی کہ انہیں پھونک مار دو ہم نے پھونکا تو وہ دونوں جاتے رہے ۳؎ ہم نے انکی تعبیر ان دو جھوٹوں سے کی جن کے درمیان ہم ہیں صنعا والا اور یمامہ والا ۴؎ (مسلم، بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ ان میں سے ایک مسیلمہ ہے یمامہ والا اور عنسی ہے صنعا والا،میں نے یہ روایت مسلم،بخاری میں نہ پائی،اسے صاحب جامع نے ترمذی سے ذکر کیا ۵؎
شرح
۱؎ اور ہم کو عطا فرمائے گئے یا تو خزانوں کی چابیاں عطا ہوئیں یا خود خزانے کہ حضور انور ان کے مالک بنادیئے گئے۔(مرقات)خزانوں میں زمین اور اسکے تمام ملک اور اس کی تمام چیزیں بحری ہوں یا بری سب مراد ہیں۔ حضور سب چیزوں کے مالک کردیئے گئے اب جو جس کو ملے گا یا ملتا ہے حضور کی عطا ء سے ملتا ہے۔شعر

لا ورب البیت جس کو جوملا ان سےملا		بٹتی ہےکونین میں نعمت رسول اللہ کی

۲؎ کیونکہ وہ کنگن مجھے ناپسند تھے،بھاری پڑنے سے مراد ناپسندیدگی ہے۔(مرقات)

۳؎ پھونک سے اڑا دینے میں اشارہ اس جانب ہے کہ وہ دونوں دشمن آپ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے آسانی سے دفع ہوجائیں گے۔اس حدیث کی بنا پر بعض معبرین کہتے ہیں کہ اگر مرد خواب میں اپنے ہاتھ میں سونے کے کنگن دیکھے تو کسی مصیبت میں گرفتار ہوگا کہ سونے کے کنگن مرد کے لیے حرام ہیں،نیز وہ ہتھکڑی کے مشابہ ہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ کنگن اپنی ہتھیلی پر رکھے ہوئے دیکھے تھے۔

۴؎ یعنی دو جھوٹے مدعی نبوت جو حضور کے زمانہ میں ہی پیدا ہوئے اور دعویٰ نبوت کرچکے تھے ایک اسود عنسی جو یمن کے شہر صنعا میں رہتا تھا جسے حضور کے مرض وفات میں ہی فیروز دیلمی نے قتل کیا اور حضور کو خبر دی حضور نے فیروز کو دعا دی،دوسرا مسیلمہ کذاب جو حجاز کے ایک شہر یمامہ میں رہتا تھا جسے خلافت صدیقی میں حضرت وحشی ابن حرب نے قتل کیا،اس کا واقعہ بہت مشہور ہے،یہ دونوں بڑے مردود تھے جیسے آج کل مرزا قادیانی۔اس خواب اور اس تعبیر سے چند مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مسیلمہ اور عنسی کی نبوتیں دنیا طلبی کے لیے تھیں کہ حضور نے انہیں سونے کے کنگنوں کی شکل میں دیکھا۔دوسرے یہ کہ ان کی وجہ سے حضور کے قلب پر بوجھ تھا کہ وہ گمراہ گر تھے۔تیسرے یہ کہ وہ اور انکے ایجاد کردہ دین عنقریب فنا ہونے والے تھے۔چوتھے یہ کہ حضرت صدیق اکبر کی خلافت برحق ہے اور آپ کے فتوحات حضور کے کرم سے ہیں کیونکہ مسیلمہ کذاب حضرت صدیق اکبر کی خلافت میں مارا گیا آپ نے اس پر جہاد کیا جسے حضور انور نے اپنی پھونک سے اڑتا دیکھا،صدیق اکبر کا جہاد حضور کی پھونک تھی۔

۵؎ اس کا منشاء یہ ہے کہ صاحب مصابیح نے یہ حدیث فصل اول میں بیان کی حالانکہ یہ صحیحین کی ہیں اسے دوسری فصل میں لانا چاہیے تھا۔
Flag Counter