| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کررہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں تو میرا خیال ادھر گیا ۱؎ کہ وہ زمین یمامہ یا ہجر ہے ۲؎ مگر وہ نکلا مدینہ یعنی یثرب۳؎ اور میں نے اپنی اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو اس کا درمیانی حصہ ٹوٹ گیا یہ وہ تکلیف تھی جو مسلمان کو احد کےدن پہنچی ۴؎ پھر میں نے اسے دوبارہ ہلایا تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی ہوگئی تو یہ وہ فتح اور مسلمانوں کا اجتماع ہے جو اللہ تعالٰی نے عطا فرمایا ۵؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ وھل واؤ اور ہ کے فتحہ سے بمعنی گھبراہٹ اور فورًا دل میں آنے والا خیال۔(مرقات) ۲؎ یمامہ ایک لونڈی کا نام تھا جس کی آنکھیں نیلی اور نگاہ بہت تیز تھی،بور نو شہر اور علاقہ اس کی طرف منسوب ہے،یمامہ سارے حجاز میں زیادہ ہرا بھرا اور کھجوروں والی بستی ہے،مکہ معظمہ سے جانب مشرق ہے، بصرہ کوفہ سے سولہ منزل پر ہے،مسیلمہ کذاب یہاں ہی کا باشندہ تھا،ہجر بحرین کے علاقہ میں ایک شہر ہے جہاں کے گھڑے اور مٹکے بہت مشہور تھے۔ ۳؎ یعنی اس خواب کے کچھ دیر بعد علامات سے معلوم ہوا کہ ہماری جائے ہجرت مدینہ منورہ ہے جسے لوگ یثرب کہتے ہیں،حضور کی یہ تعبیر ہجرت سے کہیں پہلے ہوچکی تھی خواب دیکھنے کے کچھ بعد جہاں فاذا کی ف سے معلوم ہورہا ہے دیکھو اشعہ۔خیال رہے کہ مدینہ منورہ کے قریبًا اسّی نام ہیں جن میں سے بہت سے نام شیخ عبدالحق نے اپنی کتاب جذب القلوب میں بیان فرمائے: مدینہ،طیبہ،طابہ،بطحی۔ابطح وغیرہ۔اسے یثرب کہنا منع ہے طریقہ منافقین ہے،قرآن کریم فرمارہا ہے کہ منافقین کہتے ہیں"یٰۤاَہۡلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ"امام احمد نے بروایت براء ابن عازب مرفوعًا نقل فرمایا کہ جو اسے یثرب کہے وہ توبہ کرے(مرقات)بخاری نے اپنی تاریخ میں روایت کی کہ حضور فرماتے ہیں جو ایک بار مدینہ کو یثرب کہے وہ کفارہ کے لیے دس بار مدینہ کہے۔(اشعہ)یثرب نوح علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا جس نے یہ شہر آباد کیا۔(اشعہ)واللہ اعلم! روح البیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے زمانہ سلیمانی میں تبع نے آباد کیا،نیز یثرب بنا ہے ثرب سے بمعنی ہلاکت یا مصیبت،یثرب بمعنی مصیبت و آفات کی جگہ،چونکہ پہلے یہ جگہ بڑی بیماریوں والی تھی اس لیے یثرب کہلاتی تھی حضور کی برکت سے طیبہ یعنی صاف کی ہوئی زمین ہوگئی اب وہ جگہ بجائے دارالوباء کے دارالشفاء بن گئی۔ ۴؎ یعنی تلوار کا ٹوٹنا مسلمانوں کی وہ پریشانی تھی جو انہیں احد میں پہنچی۔معلوم ہوا کہ غازی مسلمان حضور کی تلوار ہیں اور حضور کے ہاتھ میں ہیں۔ ۵؎ اس فتح سے مراد یا تو خود احد کے دن کی فتح ہے کہ اولًا مسلمانوں کے قدم اکھڑے اور ستر حضرات شہید ہوگئے پھر حضور کے قدموں میں جمع ہوگئے اور بخیروخوبی مدینہ منورہ پہنچے،نہ ان کا مال لٹا نہ کوئی مسلمان قیدی ہوا،کفار مکہ کی آرزو پوری نہ ہوئی وہ تو مدینہ منورہ کو برباد کرنے آئے تھے ناکام گئے ،بامراد بعد کی فتوحات ہیں جیسے فتح مکہ،فتح حنین،فتح خیبر وغیرہ۔