Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
453 - 975
حدیث نمبر 453
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رات مجھے اس میں جس میں سونے والا دیکھتا ہے دکھایا ۱؎ گیا گویا ہم عقبہ ابن رافع کے گھر میں ہیں کہ ہمارے پاس ابن طاب سے کچھ رطب لائے گئے ۲؎ میں نے تعبیر دی کہ دنیا میں بلندی ہمارے لیے ہے اور آخرت میں انجام بھی اور یہ کہ ہمارا دین طیب ہوگیا۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎ ما یری النائم سے مراد صادقہ و صالحہ خوابیں ہیں۔النائم میں الف لام عہدی ہے جس سے مؤمن صالح نائم مراد ہے۔

۲؎ یعنی ہم مع صحابہ کرام ان کے گھر میں ہیں ہم سب کے پاس یہ کھجوریں لائی گئیں۔ابن طاب مدینہ منورہ میں ایک شخص تھا جس کی طرف یہ کھجوریں منسوب ہیں،انہیں عذق ابن طاب بھی کہتے ہیں اور رطب ابن طاب بھی۔

۳؎ حضور انور نے یہ تعبیر ان کے ناموں سے دی۔حضور انور ناموں سے نامی بیداری بھی لیتے تھے۔چنانچہ سفر ہجرت میں حضور انور نے کفار کی ایک جماعت کو دیکھا جس کا سردار بریدہ اسلمی تھا جسے کفار مکہ نے سو۱۰۰ اونٹ کے وعدہ پر حضور انور کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجا تھا،آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ بولا بریدہ تو صدیق اکبر نے فرمایا (برد امرنا) ہمارے کاموں میں ٹھنڈک ہوئی،پھر پوچھا تیرا نسب کیا ہے بولا بنی اسلم،فرمایا ان شاءاللہ ہم کو سلامتی ملی،پھر پوچھا کون سا اسلم؟بولا بنی سہم والے،فرمایا(اصبت سہمك)تو نے اپنا حصہ پالیا اسی وقت بریدہ مسلمان ہوگئے اور حضور کے ساتھ مدینہ منورہ حاضر ہوئے گویا حضور علیہ السلام نے جو کہا فورًا ہوا انہیں حصہ مل گیا۔(اشعۃ اللمعات)
Flag Counter