۱؎ یعنی مجھے ذبح یا قتل کردیا گیا اور میں اپنے ذبح اپنے قتل کو خود دیکھ رہا ہوں وہ صاحب خواب سے گھبرا گئے تھے۔
۲؎ شاید حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے وحی سے معلوم فرمالیا کہ یہ خواب اضغاث احلام سے ہے شیطان نے اسے مغموم کرنے کے لیے یہ خواب دکھایا ہے اگر یہ خواب درست ہو تو اس کی تعبیر ہوتی ہے،تبدیلی حال مغموم دیکھے تو اسے خوشی ہوگی،خوش حال دیکھے تو وہ بدحال ہوجاوے گا،غلام دیکھے تو آزاد ہوجاوے گا،مقروض دیکھے تو قرض سے آزاد ہوجاوے گا لہذا یہ حدیث بھی صحیح ہے اور معبرین کی یہ مذکورہ تعبیریں بھی درست ہیں۔ (مرقات و اشعہ)