Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
451 - 975
حدیث نمبر 451
بخاری نے فرمایا کہ اسے قتادہ یونس ہشیم اور ابو ہلال نے محمد ابن سیرین سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے ۱؎ روایت کیا یونس نے فرمایا میں اسے نہیں خیال کرتا مگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قید کے متعلق ۲؎  اور مسلم نے کہا مجھے خبر نہیں کہ وہ حدیث میں ہے یا یہ ابن سیرین نے کہا۳؎ اورایک روایت میں ہے کہ حدیث میں یہ قول اکرہ الغل پورے کا پورا حدیث میں داخل کرلیا گیا ہے ۴؎
شرح
۱؎ قتادہ تو مشہور تابعی ہیں،یونس نام کے بہت راوی ہیں یہاں یونس ابن عبید بصری مراد ہیں جو عبدالقیس کے آزادکردہ غلام ہیں کیونکہ محمد ابن سیرین سے زیادہ روایت یہی کرتے ہیں،ہشیم سے مراد ہشیم ابن بشیر سلمی ہیں،ابو ہلال بھی تابعی ہیں،ان چاروں بزرگوں نے کہا کہ محمد ابن سیرین نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔(اشعہ)

۲؎  یعنی یونس ابن عبید نے کہا کہ قید کے متعلق یہ فرمان کہ قید پسند کرتے تھے یہ حضور کا فرمان عالی ہے کہ حضور خواب میں قید دیکھنا پسند فرماتے تھے۔

۳؎  یعنی خواب میں قید دیکھنے کا محبوب ہونا یا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی ہے یا محمد ابن سیرین کا اپنا قول ہے۔

۴؎ یعنی کان یکرہ الغل سے لے کر فی الدین تک کی عبارت حدیث میں نہیں ہے یہ ابن سیرین کا اپنا قول ہے مگر اسے حدیث میں اس طرح بیان کیا ہے کہ حدیث کا جز معلوم ہوتا ہے یہ شامل کرنے والے یا تو ابن سیرین ہیں یا ابوہریرہ۔(اشعہ)یہاں مرقات نے فرمایا کہ طوق گردن میں پڑتا ہے اور قیامت کے دن کفار کی گردنوں میں طوق ہوگا،رب فرماتاہے:"اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیۡۤ اَعْنٰقِہِمْ"لہذا یہ خواب میں دیکھنا اچھا نہیں اور بیڑیاں پاؤں میں پڑتی ہیں جس سے پاؤں ایک جگہ ٹھہر جاتا ہے اس میں اشارہ ہے کہ اس کو اسلام پر ثابت قدمی نصیب ہوگی،اپنے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے دیکھنا بخل کی علامت ہے۔
Flag Counter