۱؎ دو کالی چیزوں سے مراد چھوہارے اور پانی ہے کہ چھوہارے تو کالے ہوتے ہیں۔پانی کو تغلیبًا کالا فرمایا گیا جیسے چاند و سورج کو قمرین اور امام حسن اور حسین کو حسنین اور حضرت ابو بکروعمر کو عمرین کہا جاتا ہے۔یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریف تک ہم نے کھجوریں وپانی بھی خوب سیر ہو کر نہ کھائیں۔فتح خیبر سے پہلے تو اس لیے کہ گھر میں یہ سامان زیادہ نہ ہوتا تھا اور فتح خیبر کے بعد اس لیے کہ حضور انور کو بہت سیر ہوکر کھانا پسند نہ تھا اگرچہ ہر گھر میں سال بھر کے جو اور چھوہارے موجود ہوتے تھے لہذا حدیث واضح ہے اس پرکوئی اعتراض نہیں۔