| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اچھی خواب اللہ کی طرف سے ہے اور بری خواب شیطان کی طرف سے ۱؎ تو جب تم میں سے کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو اپنے پیارے کے سوا کسی سے بیان نہ کرے ۲؎ اور جب ناپسند بات دیکھے تو اس کی شر سے اور شیطان کی شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور تین بار تھوک دے اور اس کی خبرکسی کو نہ دے تو وہ خواب اسے مضر نہ ہوگی ۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اچھے خواب کو رؤیا کہتے ہیں اور برے خواب کو حلم،اسی سے ہے اضغاث احلام اسی سے بنا ہے احتلام، اگرچہ ساری خوابیں رب تعالٰی کی طرف سے ہوتی ہیں مگر بارگاہِ الٰہی کا ادب یہ ہے کہ بُری اور ڈراؤنی خوابوں کو شیطان کی طرف سے نسبت دے کیونکہ مسلمان کی بری خوابوں سے بہت خوش ہوتا ہے۔(مرقات) بہرحال اچھی خواب رب کی بشارت ہے تاکہ مسلمان اللہ کی رحمت کا منتظر اور شکر میں مشغول ہوجائے بری خواب مایوس کن ہے اور مایوسی شیطانی عمل ہے۔ ۲؎ یعنی اچھی خواب ضرور بیان کرے تاکہ اس کا ظہور ہوجائے مگر بیان کرے ایسے عالم معتبر سے جو اس کا دوست و خیرخواہ ہو تاکہ وہ تعبیر خراب نہ دے اچھی تعبیر دے خواب کی پہلی تعبیر ہی پر خواب کا ظہور ہوتا ہے۔ ۳؎ یہ عمل بہت مجرب ہے کیسی ہی خطرناک خواب دیکھو یہ عمل کرلو ان شاءاللہ اس کا ظہور کبھی نہ ہوگا، اچھی خواب اللہ کی نعمت ہے اس کا چرچہ کرو"وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ"اور بری خواب بلا و امتحان ہے اس پر صبرکرو کسی سے نہ کہو رب سے عرض کرو ان شاءاللہ دفع ہوجائے گی۔(مرقات)چونکہ حضور کے خطرناک خواب بھی رب کی طرف سے ہوتے تھے اس لیے حضور لوگوں سے انکا ذکر فرمادیتے پھر ان کا ظہور بھی ہوتا تھا جیسے حضور نے خواب میں تلوار ٹوٹتی دیکھی اس کا ظہور غزوہ احد کی تکالیف کی شکل میں نمودار ہوا، ہاتھوں پر بھاری کنگن دیکھے ان کا ظہور مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی سے ہوا لہذا حضورانور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان حضور کے اس عمل شریف کے خلاف نہیں۔