Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
447 - 975
حدیث نمبر 447
روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا ۱؎ اور شیطان میری شکل نہیں بن سکتا۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس حدیث کے بھی چند معنی کیے گئے: ایک یہ کہ جس صحابی نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے قیامت میں بیداری میں دیکھے گا۔دوسرے یہ کہ جس مسلمان نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے قیامت میں بیداری میں دیکھے گا۔تیسرے یہ کہ جس مسلمان نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے اپنی زندگی ہی میں بیداری میں دیکھے گا۔ خواص اولیاء تو ظاہر ظہور دیکھیں گے ہم جیسے عوام جن میں ضبط کا مادہ نہیں راز چھپا نہیں سکتے وہ مرتے وقت جب زبان بند ہوجائے گی تب پہلے مجھے دیکھیں گے بعد میں وفات پائیں گے تاکہ وہ راز ظاہر نہ کرسکیں۔چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس نے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو خواب میں دیکھا بیدار ہوکر اس حدیث میں غور کیا اور سوچا کہ اب میں حضور انور کو بیداری میں کیونکر دیکھوں گا،آپ اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے حضرت میمونہ نے حضور کا آئینہ آپ کو دیا جس میں حضور انور اپنا چہرہ انور دیکھا کرتے تھے حضرت ابن عباس نے جب آئینہ دیکھا تو اس میں بجائے اپنی صورت کے حضور کی صورت شریف نظر آئی اپنی صورت بالکل نظر نہ آئی،دیکھو اشعۃ اللمعات یہ ہی مقام۔چوتھے یہ کہ میرے زمانہ حیات شریف میں جو مسلمان مجھ تک نہ پہنچ سکا اس نے مجھے خواب میں دیکھ لیا وہ ان شاءاللہ عنقریب مجھ تک پہنچ جائے گا اور میری زیارت کرلے گا مگر تیسرے معنی بہت قوی ہیں اور یہ بشارت عام مسلمانوں کے لیے ہے۔

۲؎ یہ حضور کا وہ معجزہ ہے جو تاقیامت باقی ہے کہ جیسے شیطان زندگی شریف میں آپ کی شکل اختیار نہیں کرسکتا تھا یوں ہی تاقیامت کسی کے خواب میں حضور کی شکل میں نہیں آسکتا حضور انور کے سواء اور تمام کی شکلوں میں آجاتا ہے،خواب میں باتیں کرجاتا ہے مرد یا عورت کو احتلام اس کی مہربانی سے ہوتا ہے۔
Flag Counter